اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 58 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 58

58۔۔۔( یہ ) اس عزیزہ کا نکاح ہے جو خدا تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔پھر اس عظیم الشان انسان کی صداقت کا نشان ہے۔جو خدا کا عظیم الشان مرسل اور عظیم الشان نبی ہے جس کی صداقت اور آیات صداقت کی تجلیات سے زمانہ منور اور بھرا ہوا ہے۔اور کوئی ملک کوئی علاقہ اور کوئی جگہ خالی نہیں اور کوئی زمین کا خطہ اور آسمان کا افق ایسا نہیں جہاں آپ کی صداقتیں جلوہ گر نہ ہوں اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو کیا حضرت عزیزہ کا وجود اور کیا نکاح کوئی معمولی بات ہیں۔حضرت جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ کا وجود جو تمام رسولوں کے کمالات کی حقیقت جامع ہے۔آپ کی بیٹی کا نکاح ایک عظیم الشان چیز اور نہایت ہی مبارک تقریب ہے اور بہت بڑی سعادت ہے ان لوگوں کی جن کو یہ تعلق حاصل ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں طُوبَى لِعَيْنِ رَأَتَنِي قَبْلَ وقتي - 0 ( تحفہ بغداد ) اور طُوبَى لِمَنْ عَرَفَنِى اَوْ عَرَفَ مَنْ عَرَفَنِي - ( خطبه الباميه ) مبارک ہے وہ جس نے مجھے دیکھا اور مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچانا۔یا میرے پہچاننے والے کو پہچانا۔یہ بہت ہی بڑی سعادت ہے۔ایک وقت آئے گا جبکہ لوگ حضرت مسیح موعود کے صحابہ کو تلاش کریں گے اور یہ التجا کریں گے۔کہ کاش ہمیں حضرت مسیح موعود کو دیکھنے والا ہی کوئی دکھائی دے۔ایک وقت آئے گا جس وقت بادشاہ کہیں گے کہ کاش ہم مفلس ہوتے۔تنگ دست اور محتاج ہوتے۔مگر حضرت مسیح موعود کے چہرہ پر نظر ڈالنے کا موقعہ پالیتے اور ہم مسیح موعوڈ کے صحابہ میں شامل ہوتے اور وہ با دشاہ جو اس سلسلہ میں آنے والے ہیں اس بات پر رشک کریں گے۔کہ کاش ہمیں یہ تخت حکومت اور سلطنت نہ ملتی مگر مسیح موعود کے در کی گدائی حاصل ہو جاتی۔وہ نہایت حسرت سے اس طرح کہیں گے لیکن ان باتوں کو نہ پاسکیں گے۔لیکن کیا آپ لوگ کچھ کم درجہ رکھتے ہیں؟ نہیں بلکہ آپ کا درجہ تو یہ ہے۔