اصحاب احمد (جلد 12) — Page 57
57 فساد تقویٰ کے چھوڑنے اور زبان کی ناراستی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں اس شخص کے بہشت میں جانے کیلئے ضامن ہوتا ہوں جو دو چیزوں کو قابو میں رکھے ایک زبان کو دوسرے وہ جو دونوں رانوں کے درمیان ہے۔واقعہ میں انسان سے جس قدر شرور سیئات اور جرائم سرزد ہوتے ہیں ان کا بڑا ذریعہ یہی دونوں چیزیں ہیں اور اگر اللہ کے فضل سے ان پر قابو پالیا جائے تو انسان کی بہت سی اصلاح ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس دوسری چیز کیلئے تو فرمایا کہ تقویٰ کرو اور زبان کیلئے فرمایا کہ قُولُوا قَوْلاً سَدِيداً۔اس سے تمہارے گناہ بخشے جائیں گے۔آگے فرمایا کہ کس رنگ میں تقویٰ ہو۔ممکن ہے لوگ اپنے رسم و رواج پر عمل کر کے ہی کہہ دیں۔کہ ہم تقویٰ کی راہ پر چل رہے ہیں۔اس لئے اس کی تشریح فرما دی وَمَنْ يُطِعِ اللَّه وَرَسُولَهُ یعنی تقویٰ اور قول سدید وہی ہے جو اللہ اور رسول کی اطاعت کے نیچے ہو اور قرآن اور سنت کے مطابق ان آیتوں کے بعد آنحضرت ﷺ ایک اور آیت بھی پڑھتے تھے۔اس میں بھی تقوی ہی پر زور دیا گیا ہے۔وہ آیت یہ ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبَيْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔اس آیت میں حصول تقویٰ کا طریق بتایا ہے۔اور وہ دو طریق پر۔ایک وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ یعنی ہر ایک نفس کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس نے کل کیلئے کیا فکر کی۔اس سے اعمال کردہ کی جزا و سزا کی طرف توجہ دلا کر ہوشیار کیا ہے۔کیونکہ نیکی بدی کی جزا سزا پر ایمان ہونے سے ضرور ہے کہ انسان تقومی کرے اور بد عملیوں سے بچنے کی کوشش کرے۔دوسرے اِنَّ اللهَ خَبَيْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبر دار ہے۔خدا تعالیٰ کی صفت خبیر پر ایمان لانے سے بھی انسان میں تقویٰ پیدا ہو جاتا ہے۔کیونکہ جب انسان اس بات کا یقین کر لے گا۔کہ خدا تعالیٰ میری ہر حرکت و سکون میرے ہر قول و فعل اور ہر نیت و عمل سے خبر دار اور آگاہ ہے تو وہ ضرور بدی سے بچنے کی کوشش کرے گا۔غرض تقویٰ کا ہونا نہایت ہی ضروری امر ہے۔اور تقویٰ کے بغیر سب کچھ بیچ۔لیکن یہ نکاح جس کا خطبہ پڑھنے کیلئے مجھے حکم دیا گیا۔اس کے متعلقین میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جو مجھ سے تقویٰ کی باتیں سنے کا محتاج ہو۔کیونکہ جو خدا تعالیٰ کا رسول ہوتا ہے۔جب سب پاک ہدایتیں اور سچی تعلیمیں وہ خود دینے والا ہوتا ہے اور کوئی کام ایسا نہیں ہوتا۔جس میں رسول کی طرف سے کامل نمونہ پیش نہ ہوتا ہوتو اس نمونہ کے جب پہلے وارث بھی متعلقین ہیں تو پھر ان کو مجھ سے کچھ سنے کی احتیاج کیسے؟