اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 47 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 47

47 ہیں۔اس لئے بھی مجھ کو جرات ہوئی۔پس اب حضور غور فرما کر جو پہلوقوی نظر آئے مجھ کو اس کی بابت حکم فرمایا جائے۔اگر رشتہ قابل قبولیت ہو تو قبول فرما کر جلد تر مجھ کو مطمئن فرمایا جائے اور اگر نا قابل قبولیت ہو تو اس سے مطلع فرما کر سبکدوش فرمایا جائے۔تا کہ دوسری جگہ تلاش رشتہ کروں۔۔۔۔میرا۔بہت خیال مبارکہ بیگم صاحبہ کیلئے تھا مگر میں اور رشتوں کی تلاش میں بھی تھا۔کیونکہ میرا ایمان ہے کہ بعد دعا جو کام ہو وہ بابرکت ہوتا ہے۔پس اگر منشاء خداوندی ہے وہ بہر صورت ہو کر رہے گا ورنہ نہ ہوگا۔اس لئے میں مایوس ہونے والا نہیں۔ہاں اگر منشاء الہی نہیں تو پھر رضا بقضا مجھ کو منشاء الہی کے ماتحت چلنا ضروری ہے۔جواب راقم محمد علی خاں آپ نے جوا بار قم فرمایا:۔مکرمی و معظمی نواب صاحب۔السلام علیکم۔عزیزی عبداللہ خاں کیلئے امتہ الحفیظ کے رشتہ کے متعلق آپ کی چند ایک تحریریں ملیں لیکن مشورہ اور استخارہ کا انتظار تھا۔اب اس قابل ہوا ہوں کہ آپ کو کوئی جواب دے سکوں۔امتہ الحفیظ کی عمر اس وقت بہت چھوٹی ہے اور سر دست ظاہر أطور پر وہ شادی کے قابل نہیں یعنی اس حالت میں صرف نکاح بھی نا مناسب معلوم ہوتا ہے۔عزیز عبداللہ خاں نہایت نیک اور صالح نوجوان ہے اور اس کے متعلق ہمیں کسی قسم کا اعتراض نہیں بلکہ ہم سب اس رشتہ کو پسند کرتے ہیں اور خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہ رشتہ ہو جائے۔لیکن پھر بھی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ ابھی سے یہ رشتہ کر دیا جائے۔ہاں اس قدر وعدہ کر سکتے ہیں کہ اگر آپ کو اور آپ سے زیادہ لڑکے کو یہ رشتہ منظور ہو اور وہ عزیزہ کے بلوغ تک انتظار کرنا منظور کرے تو اس وقت تک کہ عزیزہ امتہ الحفیظ بالغ ہو ہم اس رشتہ کا انتظار کریں گے۔الا ماشاء اللہ اور اس کو دوسری جگہوں پر ترجیح دیں گے۔آگے آئندہ کے حالات کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے۔ہاں اگر کچھ مدت کے بعد عزیزہ کے ڈیل ڈول میں کوئی خاص تغییر معلوم ہو۔جس سے جلد بڑھنے کی امید ہو تو اس وقت تک پھر اس تجویز پر غور ہوسکتی ہے۔موجودہ حالات میں عزیز عبداللہ خاں کو