اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 203 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 203

203 بڑے ڈاکٹروں کی متفقہ رائے تھی کہ اس قسم کا دل کا دورہ ہم نے کتابوں میں تو پڑھا ہے۔مگر اپنی زندگی میں دیکھا نہیں۔اور پھر دل کے اس حملہ کے نتیجے میں جو جو بیماریاں متوقع ہو سکتی تھیں وہ سب میرے ابا جان پر آئیں۔ہمیں بار بار ابا جان کی زندگی کی امید ہوتی تھی اور پھر دوبارہ کسی بیماری کے نتیجہ میں حالت خطر ناک ہو جاتی تھی۔اس سارے عرصہ میں ہم سب کے دلوں سے دعائیں نکلتیں کہ اے قادر خدا! جب موت آچکی تھی۔تو نے اسے ٹال دیا۔اب بھی تو محض اپنے فضل سے ابا جان کو اس نازک دور سے خیر و عافیت کے ساتھ نکال۔بار ہاڈاکٹروں نے مایوسی کا اظہار کیا۔مگر میرے رحیم و کریم خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پیارے ابا جان کو موت کے منہ سے نکالا۔گوان دنوں میں ہم سب بہن بھائی بھی ہر وقت ابا جان کے پاس موجود ہوتے تھے اور میری خالہ جان نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بھی ہر وقت ابا جان کے پاس ہی رہتی تھیں۔مگر با وجود اس کے جس جانفشانی اور محنت سے امی جان نے ابا جان کی خدمت کی وہ ایک مثال ہے۔ہر وقت ابا جان کے ہر کام کیلئے آمادہ، دن رات اباجان کی نگہداشت، ہر کام ابا جان کا اپنے ہاتھ سے کرنا، دو پہر کا کھانا پڑا ٹھنڈا ہورہا ہے، تین تین چار چار بج رہے ہیں اور امی اسی طرح بھو کی کام میں مصروف ہیں۔بڑی مشکل سے اور زور دینے سے کھڑے کھڑے دو چار نوالے منہ میں ڈالتیں اور پھر ابا جان کی پٹی کے ساتھ لگ جاتیں۔چار پانچ مہینے تو امی جان نے نیند بھی پوری نہیں لی۔کبھی دس پندرہ منٹ کیلئے آنکھ جھپک جاتی اور پھر آ کر ابا جان کی پشت کو دبانے لگ جاتیں۔رات کے گیارہ بارہ تو روزانہ ہی جاگتے میں بج جاتے تھے۔پھر جب امی جان کو تسلی ہو جاتی کہ ابا جان سو چکے ہیں۔تو ایک چھوٹا سا سٹول ابا جان کی چار پائی کے ساتھ ملالیتیں جو کہ اتنا پتلا اور لمبائی میں اتنا چھوٹا ہوتا تھا کہ اس پر امی تو کیا ایک دس سال کا بچہ بھی نہیں سوسکتا تھا اور امی اس پر ٹیڑھی ہو کر اس حالت میں لیٹ جاتی تھیں کہ سراور شانے ابا جان کے پلنگ کی پٹی پر اور ہاتھ ابا جان پر ہوتا۔مبادا ابا جان تکان کی وجہ سے جاگیں تو امی کی آنکھ نہ کھلے۔وقت ہزاروں اندیشوں ، دھڑکنوں اور امیدوں کے درمیان رینگ رہا تھا اور پھر ہم نے اپنے قا در خدا کی صفات کو پوری تجلیوں کے ساتھ دیکھا، اسے حی و قیوم پایا ، میں اس پر صدقے۔اس نے میرے مردہ باپ میں دوبارہ زندگی ڈال دی۔وہ مجیب الدعوات ہے اس نے سیدی حضرت ماموں جان، حضرت اماں جان اور امی جان، ہم سب صحابہ کرام اور افراد جماعت کی عاجزانہ دعاؤں کو سن لیا۔