اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 204 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 204

204 اس نے انتہائی مایوسیوں اور اندھیروں میں ہمارے دلوں کو حوصلہ دیا۔اور خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ابا جان کی خدمت کی ہمیں توفیق دی۔ابا جان جو کہ ایک بچے سے بھی زیادہ بے بس ہو چکے تھے۔حتی کہ ان کو خفیف سی حرکت یا ہاتھ تک ہلانے کی اجازت نہیں تھی۔انہوں نے رفتہ رفتہ اپنی زندگی میں قدم رکھنا شروع کیا اور جب ابا جان نے پہلے دفعہ قرآن مجید پڑھا۔اپنی عینک استعمال کی ، اپنے قلم سے دستخط کئے اور جب ڈاکٹروں نے آپ کو سہاروں سے بٹھایا۔اور قریباً ایک سال کے بعد سہارا دے کر کھڑا کیا۔اس ہر ایک مرحلہ پر امی جان نے اللہ تعالیٰ کے حضور شکرانے کے نفل پڑھے گو آخر وقت تک ابا جان کو زیادہ چلنے پھرنے کی ممانعت تھی۔مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ابا جان نے معذوری سے وقت نہیں گزارا۔اپنے روز مرہ کے معمولات کو خودسرانجام دیتے اور تھوڑا تھوڑا پھر لیتے تھے۔اور موٹر میں تو جہاں بھی ان کا دل چاہتا روزانہ تشریف لے جاتے ان تیرہ سالوں میں گو بار بار آپ کو کئی بیماریوں کے حملے ہوئے اور بسا اوقات حالت مخدوش ہو جاتی رہی۔مگر ہر دفعہ اللہ تعالیٰ فضل فرماتا۔اور درمیان کے دو چار سال تو آپ کی صحت بفضلہ تعالیٰ کافی اچھی رہی۔آپ کی زندگی ہمارے لئے ایک معجزہ تھا۔نہ صرف اپنے لئے بلکہ غیروں کیلئے بھی۔حتی کہ ابا جان کے غیر احمدی معالج ڈاکٹر حیرت سے کہتے تھے کہ ہمیں ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔یہ تو ایک معجزہ ہے۔میرے چچا جان خان مسعود احمد خان صاحب نے سنایا کہ وہ ایک عزیز کی شادی میں شامل تھے اور اس تقریب میں میرے ابا جان اور ڈاکٹر محمد یوسف صاحب ہارٹ سپیشلسٹ بھی شامل تھے۔وہاں ڈاکٹر صاحب نے اپنے پاس موجود اصحاب کو ابا جان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ دیکھیں نواب صاحب کی زندگی دعاؤں کا معجزہ ہے۔امی جان جب زیادہ پریشان ہوتیں تو والد صاحب تسلی دیتے کہ مجھے خواب میں بتایا گیا تھا کہ میری عمر چھیاسٹھ سال کی ہوگی۔آخر وہی ہوا۔1961ء کے شروع میں ابا جان کی صحت گرنے لگی۔بھوک قریباً بند ہوگئی اور آپ بہت ہی بجھے بجھے رہنے لگے۔تمام بڑے بڑے ڈاکٹروں کا علاج ہو رہا تھا۔دعا ئیں بھی ہو رہی تھیں۔بخار تین چار ماہ سے روزانہ ہورہا تھا۔اس لئے آپ کو گنگا رام ہسپتال میں بھی داخل کروایا گیا تھا تا صحیح تشخیص ہو سکے اور کچھ عرصہ ہسپتال میں رہنے کے بعد آخر آپ کی خواہش پر میرے بھائی عباس احمد خان صاحب کی قیام گاہ کوٹھی پام و یو نمبر 5 ڈیوس روڈ میں لے