اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 189 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 189

189 (wheeled chair) پر باہر جانے لگ گئے۔تو پھر ماڈل ٹاؤن کے احمدی احباب آپ کے ہاں آکر نماز پڑھتے اور ابا جان بھی اپنی یہ کرسی وہاں لے جا کر کرسی پر ہی نماز ادا کرتے۔جمعہ بھی ہماری کوٹھی میں ہوتا تھا۔آپ کو نمازیوں کا اس قدر خیال ہوتا تھا۔کہ پنکھا رکھواتے ، پانی اور برف کا انتظام کرتے۔میں نے جب سے ہوش سنبھالا تھا۔ابا جان کو با قاعدہ تہجد پڑھتے پایا۔1948ء میں جب دل کا شدید حملہ ہوا۔تو چھ ماہ تک موت و حیات کی کشمکش میں رہے۔مگر اس کے بعد جب طبیعت ذرا سنبھلی تو امی جان سے کہا کہ رات کو گھڑی کو الارم لگا کر میرے سرہانے رکھ دیا کریں۔میں لیٹے لیٹے ہی تہجد ادا کر لیا کروں گا۔حالانکہ ابھی بیماری اپنے زوروں پر تھی اور رات کو کئی کئی مرتبہ آپ کو جاگنا پڑتا اور امی جان کبھی کوئی دوائی دیتیں کبھی گلوکوز دیتیں۔مگر جب الارم بجتا۔تو ابا جان نفل پڑھنے لگتے۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انتہائی عزت اور احترام آپ کے دل میں تھا۔حضرت ام المومنین سے اتنا انس تھا کہ آپ جب بھی ہمارے گھر آتیں تو گویا ابا جان کیلئے عید کا چاند نکل آتا۔چہرے سے خوشی چھپائے نہ چھپتی تھی۔فوراً ہم سب کو بلاتے کہ اماں جان آئی ہیں یہ لاؤ ، وہ لا ؤ، کسی کو کہتے پاؤں دباؤ۔قادیان میں دار السلام میں باغ میں جو موسمی پھل اور ترکاریاں ہوتیں۔فوراً منگواتے۔نوکروں کو آواز میں پڑ رہی ہیں۔چاہتے کہ سارا گھر اماں جان پر فدا ہو جائے۔ہمیں ساری عمر یہی نصیحت کرتے رہے کہ اماں جان کی خدمت کرو اور اماں جان سے دعائیں لو اور تو اور اماں جان سے تعلق رکھنے والی خدمت گزاروں مثلاً مائی کا کو صاحبہ ، مائی امام بی بی صاحبہ وغیر ہما میں سے کوئی آجاتا۔تو فوراً یوں اٹھ کر کھڑے ہو جاتے۔گویا کسی نہایت معزز مہمان کے سامنے میزبان اپنے آپ کو کمتر درجے کا محسوس کر رہا ہے۔اور آپ ان لوگوں کی بہت خاطر تواضع کرتے۔ایسا ہی سلوک میں نے اپنے دادا جان حضرت نواب محمد علی خان صاحب کا مائی کا کو صاحبہ کے ساتھ دیکھا۔جبکہ آپ حضرت ام المومنین کے ساتھ مالیر کوٹلہ آئی ہوئی تھیں اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت اماں جان کا کتنا احترام ہوگا۔ابا جان کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے بے حد محبت اور عقیدت تھی۔اپنے کسی عزیز یا دوست سے بھی حضرت صاحب یا نظام سلسلہ کے خلاف کچھ نہیں سن سکتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المومنین کے ان عزیز ترین پنجتن کا جو احترام آپ کو تھ وہ تو تھا ہی مگر آگے ان کی اولاد کی بھی بہت عزت کرتے تھے۔جب ان میں سے کسی نے ہمارے