اصحاب احمد (جلد 12) — Page 187
187 حق گو، دیانتدار، غریب نواز اور سلسلہ سے بے حد محبت کرنے والا دیکھا ہے۔تمام دنیوی سامان میسر ہوتے ہوئے بھی آپ نے نہایت سادہ زندگی گزاری۔تکلفات کو اپنی ذات میں کبھی داخل نہیں ہونے دیا۔سلسلہ کی ہر مالی و قالی خدمت میں سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں ہوتے۔ایک نواب زادہ اور بہت بڑی دنیوی وجاہت کے مالک ہوتے ہوئے آپ نے کبھی اس پر ذرہ بھر فخر نہیں کیا۔اور اگر کبھی فخر کیا تو ہمیشہ یہ کہا کہ تیرہ سو سال کے انتظار کے بعد اللہ تعالیٰ کا مسیح اس دنیا میں آیا اور کروڑوں انسانوں میں سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی دامادی کا شرف پہلے میرے والد کو اور پھر مجھے عطا کیا۔اور جب بھی اس کا ذکر کرتے تو نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کرتے اور کہتے کہ دیکھو! بھلا میرے میں کیا تھا ؟ اور پھر بات ادھوری چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس خاص سلوک کا ذکر کرتے۔يَدَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةَ جب بھی میری والدہ کا ذکر کرتے۔تو نہایت ادب سے ان کا ذکر کرتے اور ہمیں نصیحت کرتے کہ دیکھو! اپنی امی کا بہت خیال رکھا کرو۔اور کہتے کہ ویسے تو ماں کے قدموں میں جنت ہوتی ہی ہے۔لیکن ان کے قدموں میں دو جنتیں ہیں۔ایک تو ماں ہونے کے لحاظ سے، دوسرے موعود اولا د ہونے کی وجہ سے۔کیونکہ ان وجودوں پر اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کی بنارکھی ہے۔اس مضمون کو پڑھنے والے احباب سے میں درخواست کرتا ہوں کہ جہاں وہ میرے والد صاحب کی بخشش اور بلندی درجات کیلئے دعا کریں۔وہاں میری والدہ کی صحت کیلئے بھی خاص طور پر دعا کریں۔کیونکہ مسلسل تیرہ سال دن رات والد صاحب کی بیماری میں ان کی خدمت اور دوسری ذمہ داریوں کی وجہ سے ان کی صحت بہت خراب ہوگئی تھی جو ابھی تک بحال نہیں ہوسکی۔اس لئے احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحت والی لمبی زندگی عطا کرے۔آمین نیز ہم سب بہن بھائیوں کیلئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی دعاؤں کا وارث بنائے۔آمین 36۔ایک صاحبزادی کے تاثرات آپ کی صاحبزادی محترمہ طیبہ آمنہ صاحبہ ( بیگم مکرم مرزا مبارک احمد صاحب) اپنے تاثرات یوں رقم فرماتی ہیں:۔