اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 186 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 186

186 تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حلف نامہ کو افسر کے روبرو پیش کرنے میں میں شرم محسوس کرتا تھا۔چنانچہ جب میں نے یہ کا غذ اس کے سامنے پیش کیا۔تو اس نے پڑھ کر نہایت غصہ سے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ یہ کیا ہے؟ کیا آپ کے وکیل کے تمام دلائل غلط اور بے بنیاد تھے؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس حلفیہ بیان کے بعد آپ کو معاوضہ کا ایک پیسہ تک نہیں مل سکتا میں نے کہا ہاں مجھے سب معلوم ہے اس نے کہا تو پھر آپ کیا سمجھ کر میرے پاس آئے ہیں؟ میں نے جوابا کہا کہ در اصل وکیل کو اس اراضی کے متعلق علم نہیں تھا اور والد صاحب نے حقیقت کو اپنے بیان میں درج کیا ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کا وقت ضائع کیا ہے۔یہ کہہ کر میں باہر جانے کیلئے دروازہ کی طرف بڑھا۔ابھی بمشکل دروازہ تک ہی پہنچا تھا کہ افسر موصوف نے بڑی نرمی سے ٹھہرنے کی درخواست کی اور پھر مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے گھنٹی سے اپنے سٹین کو بلا کر میرے سامنے فیصلہ لکھوایا کہ ہم نے اچھی طرح سے اپنی تسلی کر لی ہے کہ مدعی کے پاس اٹھارہ کنال کے سوا اور کوئی اراضی نہیں۔اس لئے اس کے کلیم میں سے اٹھارہ کنال کی قیمت وضع کر کے باقی کلیم کا اسے حق پہنچتا ہے۔ثبوت کیلئے مدعی کا حلفی بیان کا فی ہے۔اس طرح حق گوئی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حالات میں فضل فرمایا۔آخری عمر میں بوجہ بیماری آپ چلنے پھرنے سے معذور تھے۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ آپ کو ماڈل ٹاؤن میں جو گھر ملا وہ علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔آپ نے اپنے دیرینہ شوق کے پیش نظر یہیں نماز با جماعت اور جمعہ اور عیدین کا انتظام کیا۔اور اپنے خرچ سے مسجد کے لوازمات خرید کئے۔اس طرح گویا درس قرآن و حدیث کا اہتمام گھر پر ہو گیا۔آپ باوجود علالت کے بہت با قاعدگی سے نماز با جماعت ادا کرتے تھے۔بلکہ شدید سردی میں نماز فجر بھی اپنے کمرہ سے باہر آ کر برآمدہ میں باجماعت ادا کرتے۔نیز اپنی طاقت کے مطابق سلسلہ کے کاموں میں بھی حصہ لیتے۔چنانچہ موٹر میں بیٹھ کر چندہ نادہندگان یا نسبتا کمزور احباب کے گھروں پر پہنچ کر بہت شفقت اور محبت سے انہیں سمجھاتے اور نمازوں میں زیادہ سے زیادہ حاضری کا ان سے وعدہ لیتے۔نماز جمعہ کیلئے اپنے ہاتھوں سے صفیں بچھاتے میں نے خود ان کو دیکھا ہے۔جمعہ پر آنے والوں کیلئے موسم گرما میں آپ خود برف کا پانی تیار کر کے باہر رکھوا دیتے تا کہ انہیں شدت گرما سے تکلیف نہ ہو۔الغرض میں نے اپنے والد ماجد کو پابند صوم وصلوٰۃ ، تہجد گزار، مهمان نواز ، حق پرست ، حق شناس،