اصحاب احمد (جلد 12) — Page 185
185 کا وعدہ بھی کر گئے۔والد صاحب کی وفات اور ان صاحب کے جانے کے قریباً اڑ ہائی تین سال بعد ایک دن دفتر میں مجھے ان کا ٹیلی فون آیا کہ وہ رات لاہور پہنچے ہیں اور مجھے ابھی ملنے کیلئے آرہے ہیں۔چنانچہ وہ آئے اور علیک سلیک کے بعد پہلا سوال انہوں نے یہ کیا کہ والد صاحب کی طبیعت کیسی ہے؟ میں نے کہا کہ وہ تو آپ کے جانے کے چند ماہ بعد ہی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔یہ سن کے وہ بیتابی سے کرسی سے اچھل پڑے اور کیا کہہ کر پھٹی ہوئی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگے اور ان کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے شروع ہو گئے۔اور انہوں نے رونے والی آواز سے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ شاہد صاحب! آپ یقین کریں آپ سے زیادہ میں ان سے بے تکلف تھا۔اب آپ کے گھر جانے کی مجھ میں ہمت نہیں“ والدصاحب کی دیانت ایسی اعلیٰ پایہ کی تھی کہ ایک دفعہ ان کا کلیم ایک عدالت میں پیش تھا۔حاکم نے وکیل کے دلائل سن کر فیصلہ کیا کہ اگر نواب صاحب یہ حلف نامہ عدالت میں داخل کر دیں کہ اس کے علاوہ انہوں نے ابھی تک کوئی زمین بطور شیڈول نمبر 6 حاصل نہیں کی۔تو ان کا اتنے لاکھ کا کلیم منظور کیا جاتا ہے اور اس حلف نامہ کے داخل کرنے کی میعاد صرف چوبیس گھنٹے مقرر کی۔پڑتال کرنے پر معلوم ہوا کہ قریباً 18 کنال اراضی کسی غلط فہمی کی وجہ سے الاٹ ہو چکی ہے۔وکیل نے والد صاحب سے کہا کہ یہ زمین ہم واپس کر دیں گے۔آپ حلف نامہ داخل کر دیجئے والد صاحب نے کہا کہ آپ چوبیس گھنٹے میں اراضی واپس نہیں کر سکتے اور میں غلط حلفیہ بیان نہیں دے سکتا۔اس لئے آپ حلف نامہ میں تحریر کر دیجئے کہ ہمارے پاس اٹھارہ کنال اراضی ہے۔وکیل نے کہا کہ میرے پیشکردہ دلائل کے بعد آپ کے پاس اگر ایک انچ زمین بھی پائی گئی تو آپ کا کیس خراب ہو جائے گا اور آپ کو ایک پیسہ کا معاوضہ نہیں ملے گا۔آپ نے جواب دیا کہ میں ایسے حلف نامہ پر دستخط کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔اول تو آپ کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ آپ مجھ سے اس قسم کی غلط بیانی کی توقع رکھیں۔ان حالات میں اگر آپ میری وکالت کے فرائض سر انجام نہیں دے سکتے تو آپ اپنے آپ کو اس ذمہ داری سے سبکدوش سمجھیں۔اور پھر مجھ سے کہا کہ ایک حلف نامہ تحریر کر لاؤ جس میں لکھو کہ میرے پاس اٹھارہ کنال سے زائد کوئی اراضی نہیں ہے۔چنانچہ ایسے حلف نامہ پر دستخط کر کے مجھے فرمایا کہ جاؤ اس افسر کے پاس لے جاؤ اور ساتھ ہی بآواز بلند إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون پڑھا۔چونکہ آپ کی آخری عمر میں آپ کی جائیداد کا انتظام میرے سپر د تھا۔اس لئے مجھے بخوبی معلوم