اصحاب احمد (جلد 12) — Page 143
143 قادیان گیا۔ان ہی ایام میں بھائی عبداللہ خانصاحب کی بات چیت اراضی کے متعلق ہوئی اور غالباً ساٹھ ہزار روپیہ میں زمین کا سودا طے ہو گیا اور جہاں تک مجھے یاد ہے بھائی جان نے کچھ رقم بطور بیعانہ دے بھی دی۔چند روز بعد پھوپھا جان کی علالت تشویشناک صورت اختیار کر گئی اور آپ کا انتقال ہو گیا۔کچھ دن ٹھہر کر والد صاحب نے یہ سمجھ کر کہ میاں عبداللہ خاں صاحب کی ذمہ داریوں کی نوعیت نواب صاحب کے انتقال کے بعد کچھ مختلف ہو گئی ہے کہا کہ میاں اگر آپ سودا کو منسوخ کرنا چاہیں تو کر لیں۔مگر بھائی جان نے فرمایا کہ ماموں صاحب! میں نے یہ سودا جب آپ سے کیا ہے تو انشاء اللہ وعدہ کو نبھاؤں گا۔میرے تو تمام سودے اللہ تعالیٰ کے تو کل پر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر کام میں فائدہ ہی بخشتا ہے۔چنانچہ حسب وعدہ 1946ء میں بقایا رقم ادا کر دی اور فرمانے لگے مجھے اس سودے میں بے حد منافع رہا اور میں نے پلاٹ بنا کر زمین سے خوب فائدہ حاصل کیا۔اور بہت اچھے داموں پر فروخت کی۔اس طرح خدا تعالیٰ تمام عمران کی نیک نیتی اور دیانتداری کی وجہ سے ان کو خوب نوازتا رہا۔میرے چھوٹے بھائی میجر بشیر احمد خان صاحب کو میاں عبداللہ خان صاحب نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کا ایک رؤیا سنایا۔کہ ایک سڑک پختہ جارہی ہے اور ان کے پانچ کھیت ہیں دو سڑک سے مشرقی جانب ہیں جو سوکھ گئے ہیں اور تین جو اس سے بجانب مغرب ہیں۔وہ سرسبز وشاداب ہیں۔فرمایا کہ حضرت والد صاحب فرماتے تھے کہ ان پانچ کھیتوں سے اشارہ ان کے پانچ بیٹوں کی طرف ہے جن میں سے تین خدا کے فضل سے سرسبز ہیں یعنی وہ تین جن کو حضرت مسیح موعود سے ایک خاص روحانی اور جسمانی تعلق کا شرف حاصل ہوا۔عزیز میجر بشیر احمد خان صاحب نے بتایا کہ ایک دن مجھے کہہ رہے تھے۔کہ میں نے اپنا وجود درمیان سے بالکل ہی مٹادیا ہے اور بیگم صاحبہ جو کہ حضرت مسیح موعود کی صاحبزادی ہیں ان کی وجہ سے جو کچھ میرا تھا وہ اب مٹ چکا سب کچھ حضرت مسیح موعود کی برکت کا ظہور ہے۔سبحان اللہ یہ حقیقت ہے کہ محترمہ بھا وجہ صاحبہ نے 12-13 سال جس شب و روز کی جانفشانی اور وفاداری سے حضرت بھائی جان کی خدمت کی ہے اور ان کی طویل بیماری میں پروانہ وار ان پر شار ہوئی ہیں۔اس کی مثال فی زمانہ مالی دشوار ہے۔جزاها الله أَحْسَنَ الْجَزَاء (الفضل 22 اکتوبر 1961ء)