اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 144 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 144

144 23۔تاثرات انور صاحب اخویم مولوی عبدالرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری سید نا حضرت امیر المومنین بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ایک بار ذکر فرمایا کہ ہمیں جو اللہ تعالیٰ نے مالی فراخی عطا فرمائی ہے ہمارا فرض ہے کہ ایسے قناعت پسند غرباء کا خیال رکھیں جو سوال سے محتر ز رہتے ہیں۔ایک روز لا ہور میں ملاقات ہوئی تو فرمایا کہ یہ ایک صد روپیہ فلاں صحابی کو دے دیں۔ان کا خط ربوہ سے عرصہ بعد آیا ہے جس سے مالی تنگی مترشح ہوتی ہے۔سلسلہ کیلئے سندھ میں خرید اراضی کیلئے آپ نے ساری اراضی کا جائزہ لیا۔اور جو کی روٹی اور لسی پر گزارہ کرتے رہے۔مجھے محمود آباد اسٹیٹ میں ایک دفعہ ایک جال ( ون ) کا درخت دکھلا کر فر مایا کہ ابتداء میں مجھے کئی بار اس درخت کے نیچے بسیرا کرنا پڑا۔سندھیوں کا آپ سے اُنس اس امر سے ظاہر ہے کہ حضور کی اراضی نواب دی بنی کے نام سے مشہور تھی۔گویا وہ آپ کے احسانات سے اس قدر دبے ہوئے تھے۔آپ کی اراضی محمد آباد اسٹیٹ کے قریب تھی آپ اس اسٹیٹ کی بہتری کیلئے بھی کوشاں رہتے اور مینیجر صاحبان کو تجارب بتاتے رہتے۔یہ معلوم کر کے کہ اس کی آمد ایک لاکھ روپیہ سے کم ہے۔آپ نے سلسلہ کے فائدہ کیلئے ایک لاکھ روپیہ سالانہ ٹھیکہ پر لینے کی پیش کش کی تھی۔بوقت تقسیم ملک میں ابھی قادیان میں تھا اور میری اہلیہ لاہور آ چکی تھیں زچگی کے ایام کے قرب کا آپ کو علم ہوا۔تو آپ نے تسلی دی اور جو دھا مل بلڈنگ میں ایک الگ کمرہ آپ نے دلوادیا۔حالانکہ آپ نے اس کی امید ایک اور خاندان کو دلائی ہوئی تھی۔جنہیں آپ نے اور جگہ دلا دی۔ان ایام میں قریبی اقارب بھی ہمدردی نہ کرتے تھے اور اس بلڈنگ میں ایک ایک کمرہ میں کئی کئی خاندان رہائش پذیر تھے۔میرے آنے پر فرمایا کچھ برتن موجود ہیں اگر ضرورت ہو تو لے لیں اور متعلقہ کا رکن کو لکھ دیا۔چونکہ بے سروسامانی میں قادیان سے نکلنا ہوا اور خرید کی بھی توفیق نہ تھی اس لئے میں نے چند ایک برتن حاصل کر لئے۔قادیان کی جدائی کا صدمہ حواس باختہ کرنے کو کافی تھا۔پھر آپ جو آرام و آسائش سے محروم ہوئے تھے آپ کو تو بہت صدمہ ہونا چاہئے تھے۔لیکن آپ راضی برضا ر ہتے اور نہایت دلجمعی سے دفتری اوقات کے بہت بعد تک باوجود اعزازی کارکن ہونے کے کام کرتے رہتے فرماتے تھے کہ