اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 14 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 14

14 یہ اُسوہ ان کے حالات کو پڑھ کر یا سن کر ہی معلوم کیا جا سکتا ہے۔اس مقصد کے حصول کیلئے عزیزم ملک صلاح الدین صاحب ایم اے نے نہایت جانفشانی اور ان تھک کوششوں سے ہماری مدد کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو اس کی بہترین جزا دے اور ان کی سعی کو مشکور فرما دے۔۔۔۔۔پیارے انداز میں اور دلکش پیرایہ میں انہوں نے اصحاب احمد نمبر 1 ونمبر 2 کو بنایا ہے۔عزیزم ملک صاحب۔۔۔۔۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خاندان سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔۔۔۔زندہ قو میں ہمیشہ ان لوگوں کو قدر وعزت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں جو کہ ان کیلئے تکلیف اٹھاتے ہیں اور اپنا سب کچھ قوم کی فلاح اور بہبود پر صرف کر دیتے ہیں۔لیکن یہ جواہر جس کے پارے جو انہوں نے اکٹھے کر دیے ہیں جماعت نے ان کی وہ قدر نہیں کی جس کے وہ مستحق ہیں۔لیکن ایک وقت آنے والا ہے جبکہ آنے والی نسلیں ان کے اس کام کے عوض رحمتیں اور صلوۃ بھیجیں گی۔اور بڑی سے بڑی قیمت دینے کیلئے تیار ہوں گی۔میں درخواست کرتا ہوں (کہ) آپ ملک صاحب کی حوصلہ افزائی فرما ئیں۔اس کام کو حقیقی قدرو قیمت کی نگاہ سے دیکھیں۔آپ ان کتابوں کا اس لئے مطالعہ کریں ( کہ ) آپ کی ایمانی قوت جلاء حاصل کرے اور ان پاک وجودوں کے اسوہ کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نیا عرفان اور ایک نیا ایمان اپنے اندر پیدا کریں۔یہ لوگ معمولی ہستیاں نہیں تھیں ان کے پاک ہونے پر خدائی گواہی موجود ہے۔موجودہ وقت کا برگزیدہ انسان ان کی تعریف میں رطب اللسان ہے لیکن ہم لوگوں کیلئے جن کے زمانہ میں یہ کام (ہوا) یہ بات ہوکر رہ جائے گی کہ ہمارے بھائی نے ہمارا کام کیا لیکن ہم نے اس کی قدر نہ کی۔پھر اصحاب ( احمد ) نمبر 2 کو پڑھنے کیلئے اس لئے ترغیب و تحریص نہیں دلاتا کہ وہ میرے باپ کی حیات پر مشتمل (ہے) بلکہ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا کہ آپ حجتہ اللہ ہیں۔پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام ) نے ) اس وقت جبکہ ان کی عمر صرف 18، 19 سال کی تھی۔ان کے متعلق لکھا۔میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور آپ کو ان مخلصین میں سے سمجھتا ہوں جو صرف چھ سات آدمی ہیں۔جبی فی اللہ سردار نواب محمد علی خاں صاحب بھی اخلاص اور محبت میں بہت ترقی کر گئے ہیں۔