اصحاب احمد (جلد 12) — Page 15
15 66 اور فر است صحیحہ شہادت دیتی ہے کہ بہت جلد قابل رشک اخلاص اور محبت کے منار تک پہنچیں گے۔“ میں اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے خود صحابی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ دیکھا پھر حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ پایا۔بلکہ آپ کی محبت کا مور در ہا ہوں۔پھر حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کے زمانہ سے گزر رہا ہوں۔اکثر صحابہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا بلکہ بہتوں کا نیاز مند رہا ہوں۔لیکن جب بھی ان لوگوں کے حالات کو پڑھایا ان کے حالات کو سنا تو اپنے میں ایک نئی روح اور نئی ایمانی قوت پائی۔پس وہ لوگ جو اس خوش نصیبی سے محروم ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا پھر بڑے پایہ کے صحابہ کا وقت پانہیں سکے۔ان کو ان تالیفات کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے تا کہ اپنے اعمال کو ان لوگوں کے رنگ میں رنگین کریں اور فلاح دارین حاصل کریں۔ایک اور امر بھی خاص توجہ کے قابل ہے۔میں دیکھتا ہوں ( کہ ) بعض نو جوانوں کے دماغوں میں انتشار اور پراگندگی پائی جاتی ہے۔وہ خلفاء کے متعلق پھر اہل بیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے متعلق اس قسم کی باتیں منہ پر لاتے ہیں۔جن کا لانا اسوہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے دور کا واسطہ بھی نہیں رکھتا۔جب میری شادی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر ہونے لگی۔تو حضرت والد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے تحریر فرمایا ( ص 276 کے اقتباس کا ذکر کیا ہے کہ حضرت نواب صاحب نے لکھا تھا کہ اپنا رشتہ ہونے پر بھی میں کس طرح حضرت ام المومنین اور حضور کی اولاد اور اولاد در اولاد کا احترام کرتا ہوں اور لکھا تھا کہ اگر یہی طرز تم بھی برت سکو تو پھر اگر تمہاری منشا ہو تو میں اس کی تحریک بعد استخارہ کروں۔ورنہ ان پاک وجودوں کی طرف خیال لے جانا بھی گناہ ہے۔یہ تھا سچے عاشقوں کا طریق ، یہی وہ جذبہ اور نمونہ تھا۔جس کی وجہ سے انہوں ( نے اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی سے مذکورہ مقام حاصل کر کے یہ بے مثل اور قابل رشک سرٹیفکیٹ حاصل کئے۔پس اگر آپ لوگ اپنی اولادوں میں وہ روح پھونکنا چاہتے ( ہیں )۔جو صدیق اکبر حضرت مولانا مولوی نورالدین خلیفہ اول ، مسلمانوں کے لیڈر مولوی عبدالکریم ، حضرت حجۃ اللہ نواب محمد علی خاں اور فرشتہ خصلت حضرت مولوی شیر علی صاحب، حضرت ڈاکٹر رشید الدین صاحب، حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب اور حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب، حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری ( اور ) حضرت منشی اروڑے خاں صاحب رضی اللہ تعالی عنہم میں کا رفر ماتھی۔66