اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 128 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 128

128 لیں اور باقاعدہ ان کا حساب تحریر فرماتے اور ان تمام کی قیمت ارسال فرماتے رہے۔1960ء میں عید الاضحیہ کے اگلے روز خاکسار تایا جان حکیم دین محمد صاحب کی معیت میں ماڈل ٹاؤن میں کوٹھی دار السلام پہنچا۔دو اڑھائی گھنٹے کے بعد بارڈر عبور کر کے قادیان آنا تھا۔ملاقات ہوتے ہی آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک روایت آپ کو دینے کیلئے رکھی ہوئی ہے۔جس میں ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود نے میرا رشتہ اپنی صاحبزادی محترمہ سے پسند کیا تھا۔اور ایک مقفل صندوقچی منگوا کر وہ روایت عنایت فرمائی۔پھر کھانا کھانے پر اصرار فرمایا۔چنانچہ ہم نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا اور اجازت حاصل کی۔21 یا 22 جولائی 1961 ء کو محترم صاحبزادہ مرزا امنیر احمد صاحب سے مجھے معلوم ہوا کہ آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہے اس لئے آپ اس دفعہ پہاڑ پر نہیں گئے۔میں یہ سمجھتا تھا کہ حسب معمول آپ کسی پہاڑ پر گئے ہوں گے۔اس لئے آپ سے ملاقات کا موقعہ نہیں نکالا تھا۔چند گھنٹے بارڈ رعبور کرنے میں باقی تھے لیکن میرا دل آپ سے ملاقات کیلئے بیقرار تھا۔چنانچہ موٹر رکشا پر خاکسار آپ کے پاس پہنچا۔میں نے آپ کو نہایت کمزور پایا۔کلے پچکے ہوئے تھے۔میں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔آپ نے بھی اپنی صحت کی شدید خرابی کا ذکر فرمایا اور خاکساراجازت لے کر واپس چلا آیا۔یہ میری آپ سے آخری ملاقات تھی۔آپ نے خاکسار مؤلف کے ایک خط کے جواب میں دسمبر 1957ء میں رقم فرمایا اس سے آپ کی اپنے انجام بخیر اور اولا د ا حباب کے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی شدید خواہش کا علم ہوتا ہے۔رقم فرمایا :۔” آپ نے بالکل درست لکھا کہ ایسے بزرگوں کی جدائی کے بعد زندگی بے مزہ معلوم ہوتی ہے مجھے حضرت اماں جان کے بعد جینے کا کوئی خاص مزہ معلوم نہیں رہا۔وہ محبت ، وہ درد، وہ ہمدردی ، پھر ایک بہترین نمونہ کہاں اور کس جگہ تلاش کریں۔اب چند صورتیں نظر آتی ہیں جن کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔لیکن ایک تسلی ہے کہ ہم بھی اب پا برکاب ہیں۔حضرت مفتی صاحب گئے ، حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب رخصت ہو گئے۔حضرت مولوی فضل الہی صاب چل بسے، ڈاکٹر غلام غوث صاحب چلتے بنے۔اب عرفانی صاحب اور سیٹھ اسمعیل آدم صاحب نے کسر پوری کر دی۔ان کے علاوہ کئی چھوٹی چھوٹی شمعیں اس سال بجھیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔سب سے بڑا فکر یہ ہے