اصحاب احمد (جلد 12) — Page 101
101 انسان نہیں مرتا۔جب تک کہ ان اعتراضات کا جو وہ دوسروں پر کرتا ہے۔خود مورد نہیں ہو جا تا۔ایسے لوگوں کی قوت عمل مفقود ہو کر رہ جاتی ہے۔پس یہ مقام خوف ہے اللہ تعالیٰ جب اپنے محبوب اور پیارے بندوں کو رشد و ہدایت کیلئے بھیجتا ہے۔تو وہ اپنا عمل اور پاک نمونہ پیش کرتے ہیں۔دوسروں کی عیب چینی نہیں کرتے ، بلکہ محبت اور ہمدردی کا نمونہ پیش کرتے ہیں اور معترض نفرت اور دوری پیدا کرتا ہے۔پس اس بد عادت سے ہمیشہ بچے رہنا چاہئے۔دراصل بات یہ ہے کہ ہمارے حکام اسی خو بو کے مالک ہوتے ہیں۔جیسی ہماری اپنی روحانی حالت ہوتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔وَكَذَالِكَ نُوَلَّى بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضاً۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو کسی نے کہا۔کہ کیا وجہ ہے کہ آپ کے زمانہ میں بدامنی ہے، اطاعت مفقود ہے، انتشار پایا جاتا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے زمانہ میں ہم لوگ ان کے پیرو تھے۔اب تم جیسے لوگ ہمارے پیرو ہیں۔دراصل نظام کی خرابی جمہور کی خرابی پر دلالت کرتی ہے۔پس اگر تم خرابی دیکھو۔تو بجائے اعتراضات کے اپنی اصلاح کرو اور انکساری اور تضرع سے اللہ تعالیٰ سے استعانت چاہو۔وہ حالات کو پلٹا دینے پر قادر ہے۔اللہ تعالیٰ اس نصیحت پر عامل ہونے کی تم کو تو فیق دے۔فقط (خاکسار محمد عبد اللہ خاں آف مالیر کوٹلہ ) مرض الموت مرض الموت میں آپ نے 1949ء کے دورہ مرض کے حالات اور موجودہ حالت مرض بیان کر کے صحت اور خاتمہ بالخیر کیلئے درخواست دعا کرتے ہوئے رقم فرمایا۔” مجھے 1949ء میں کا رونی تھر مبوس کا حملہ ہوا تھا۔یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ پانچ سال تک مجھے چار پائی پر رہنا پڑا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محض اپنے رحم وکرم سے اس قد رفضل فرما دیا کہ میں چار پائی سے اٹھ بیٹھا۔پھر تھوڑا بہت چلنے پھرنے بھی لگ گیا اور گھر میں اپنی معمولی ضروریات پوری کر لیتا تھا۔پچھلے سال تک میرا دل بیمار تھا۔لیکن زندگی کی بشاشت باقی تھی۔کبھی دل میں کمزوری آئی، دوائی لے لی ، آرام آگیا۔لیکن اس سال پھر بیماری کے بعض عوارض عود کر آئے ہیں۔دل کی کمزوری کی وجہ سے دل و جگر بڑھ گیا ہے۔معدہ کی حالت درست نہیں رہی ہے۔نفخ ہو جاتا ہے۔جس سے رات کو نیند خراب ہو جاتی ہے۔ڈیڑھ ماہ سے ایک قلبی بیماری جس کو Auricular