اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 79 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 79

79 دار السلام قادیان بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 22 جنوری 1939ء میری پیاری بچی طیبہ! خدا تمہارا حافظ و ناصر ہو! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آج تم ہم سے جدا ہوتی ہو۔طبیعت میں دو متضاد جذبات کی بقیہ حاشیہ اپنی وصیت دسویں کی بجائے نویں حصہ کی کردی۔نیز 15 مئی 1943ء کو آپ نے دفتر کو تحریر کیا کہ:۔”زمیندارہ میں متواتر تین سال سے نقصان ہو رہا ہے۔پچھلے سال تجارت میں بھی ساٹھ ہزار نقصان ہو گیا۔اس لئے ابھی میری آمد کی کوئی صورت نہیں ہے۔لیکن جو رقم میں اپنے ذاتی اخراجات کیلئے نکالتا ہوں اسی میں سے احتیاطاً 1/9 وصیت کا دے رہا ہوں۔دراصل فی الحال مجھے کوئی وصیت کا روپیہ دینا نہیں آتا۔دفتر مذکور کو 5 دسمبر 1944ء کی چٹھی میں زمیندارہ اور تجارت (یعنی دہلی کا کام اور میک ورکس قادیان کی شراکت ) میں نقصانات اور دہلی کے کام میں اسی ہزار نقصان اور اگلے سال پچیس ہزار منافع اور اس کے بعد اصل زر کے ضیاع کا ذکر کر کے تحریر کرتے ہیں کہ:۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت کے دوران میں نے گزارہ کہاں سے کیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ میری بیوی کی قادیان میں اراضیات کافی ہیں۔وہ فروخت ہوتی ہیں اور ان کا روپیہ آتا ہے اور اسی روپیہ سے ہمارا گزارہ کئی سال تک ہوتا رہا ہے۔اس کے علاوہ دراصل سندھ کی اراضیات کا لین دین میری بیوی کے روپے سے ہی ہوا ہے۔میں نے صرف اس غرض سے اپنے نام پر اراضیات کو کیا ہے کہ وصیت کا روپیہ میرے نام سے نکلتا رہے۔۔۔حقیقت میں مجھے اس آمد پر بھی چندہ نہیں دینا چاہئے تھا۔کیونکہ یہ آمد بھی میری نہیں تھی۔میری بیوی کی ہی تھی۔میں نے ایک مضمون پچھلے دنوں میں اخبار الحکم میں دیا تھا۔اس میں بھی اس بات کا ذکر ہے۔یہ کام دراصل میرا نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دونوں بیٹیوں کا ہے۔لیکن اس انعام کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے میرے پر کیا ہوا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ جس قدر بھی زیادہ سے زیادہ رقم اللہ تعالیٰ کے نام پر ہمارے گھر سے نکل جائے اس قدر بہتر ہے۔چنانچہ میری والدہ ( نواب ) مبارکہ بیگم (صاحبہ ) بھی 1/10 ہی چندہ ادا کرتی ہیں۔۔۔۔وصیت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اگر اس میں کوئی دھوکہ اور فریب ہوا تو مقبرہ بہشتی میں جا کر بھی باہر نکالے جائیں گے۔( یعنی جنازہ وہاں پہنچنے پر بھی تدفین میں روک پیدا ہو جائے گی۔مولف ) میرا تو یہ ایمان ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسرے چندوں کو ملا کر آمد کا کم از کم 1/3 خدا تعالیٰ کی راہ میں جارہا ہے۔آپ نے 11 نومبر 1945ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے نام مکتوب میں تحریر کیا۔کہ آپ نے جولائی میں ساڑھ چھ ہزار روپیہ سے زائد رقم بطور دسویں حصہ (باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر ) 66