اصحاب احمد (جلد 12) — Page 78
78 موعودؓ کے متعلق عزت و احترام کے غیر معمولی جذبات وغیرہ پر روشنی ڈالتی ہیں:۔بقیہ حاشیہ سے ایسے ہیں جو بڑے بڑے عہدوں پر مامور ہیں اور اپنے حلقہ میں اچھا اثر رکھتے ہیں۔اگر ہم سب مل کر اس عزم کے ساتھ کام کریں کہ یہ رقم پوری کرنی ہے۔تو کچھ بعید نہیں کہ چند دنوں میں ہیں ہزار کی رقم پوری ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری زندگی، ہماری موت اور ہماری قربانیاں سب اسی کیلئے ہوں اور ہم اس کی ابدی رضا حاصل کر سکیں۔( خاکسار محمد عبد اللہ خاں آف مالیر کوٹلہ۔وائس پریذیڈنٹ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان۔( الفضل 3 مئی 1927ء) (13) آپ کا وصیت نمبر 2045 ، مورخہ 22 نومبر 1921ء اور سرٹیفیکیٹ نمبر 1670 مورخہ 26 ستمبر 1923 ء ہے۔وصیت کے متعلق کچھ تفصیل درج ذیل ہے :۔دراصل 23 فروری 1918ء کو آپ نے وصیت کی تھی اس وقت آپ کی کوئی جائیداد نہ تھی اور آپ نے ایک صد ر و پیہ ماہوار آمد کے دسویں حصہ کی وصیت کی تھی۔( گواہان آپ کے والد ماجد ، آپ کے بھائی خان محمد عبد الرحمن خان صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب تھے لیکن جائیداد کی وصیت نہ تھی۔مشیر قانونی چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے توجہ دلانے پر افسر بہشتی مقبرہ حضرت میر محمد الحق صاحب نے تحریر کیا تو آپ نے جائیداد کے دسویں حصہ کی بھی وصیت 27 جنوری 1920ء کو کر دی۔پھر آپ نے 22 نومبر 1921ء کومزید وصیت یہ کی۔کہ اگر آپ نے اپنی زندگی میں جائیداد کا حصہ ادا کر دیا تو صدرانجمن کو جائیداد سے کوئی سروکارنہ ہوگا۔پھر آپ نے 7 جون 1922 ء کو یہ تحریر کیا کہ میری اس وقت جائیداد یا آمد کوئی نہیں لیکن گھر میں استعمال ہونے والا کوئی تین ہزار کا سامان ہوگا۔اس کے نیز بعد از وفات جو جائیداد ثابت ہو اس کے دسویں حصہ کی وصیت کرتا ہوں۔آپ نے دفتر بہشتی مقبرہ کو 13 اکتوبر 1934ء کو تحریر کیا۔وو۔۔۔ابھی تک میری کوئی آمد نہ تھی۔اب میں نے سندھ میں ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔گو اس کی مجھے آمدا بھی تک کوئی نہیں ہوئی لیکن اس کام کی ضمانت پر مجھے ایسی رقمیں ملیں جس کا میں نے مناسب سمجھا کہ میں دسواں حصہ ادا کر دوں۔دراصل میرے پر کوئی مطالبہ قائم نہ ہوتا تھا۔لیکن میں نے احتیاطاً اس قرض کو ہی اصل سمجھ کر وصیت ادا کر دی ہے۔چونکہ اب اللہ تعالیٰ مجھے اس وقت بھی دے رہا ہے۔اور ایسے ذریعہ سے دے رہا ہے جس کی امید نہ تھی۔اس لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ بطور شکر یہ اس کا بھی دسواں حصہ ادا کرتا رہوں گا۔“ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تحریک پر آپ نے دسمبر 1936ء میں تین سال کیلئے (باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر )