اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 39 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 39

39 کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمہارے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں اور ان کو ان رشتوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔نوابوں اور رئیسوں کی طرف تم لوگ رغبت نہ کرو۔ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عبرت کے طور پر قائم رکھا ہوا ہے۔یہ تباہ ہونے والے لوگ ہیں۔ان کی بھی خیر نہیں جو ان سے واسطہ قائم کرے گا۔وہ بھی اپنے آپ کو تباہی کی طرف لے جائے گا۔تم مغرب اور عشاء کے درمیان دو رکعت نفل پڑھا کرو اور دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ نواب صاحب کی مالی تکلیف دور کرے اور اپنے رشتوں کیلئے بھی دعا کیا کرو۔کہ اللہ تعالیٰ بہتر جگہ کر دے۔میاں محمد عبدالرحمن خان صاحب اور میاں محمد عبد الرحیم خان صاحب کا تو مجھے علم نہیں۔O میں کچھ عرصہ با قاعدہ نفل پڑھتا رہا اور بہت دعائیں کیا کرتا تھا۔چونکہ حضرت خلیفہ اول جمعہ کے روز عصر سے مغرب تک مسجد میں یا اپنے گھر میں علیحدگی میں دعا کیا کرتے تھے۔اس لئے جماعت میں بھی ایسی رو چلی ہوئی تھی میں بھی کبھی جنگل کی طرف چلا جا تا۔یا مکان پر ہی دعا کرتا۔ایک روز میں دو پہر کے وقت آرام کر رہا تھا کہ مجھے خواب میں کسی نے کہا۔" حضرت مسیح موعود کے گھر میں“۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا کہ ان نوابوں اور رئیسوں کی طرف رغبت نہ کرو۔جو ان سے تعلقات بڑھائے گا۔اس کا بھی وہی حال ہو گا۔بعینہ پورا ہوا۔میرے دونوں بھائیوں کے نوابوں کے ہاں رشتے ہوئے۔اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔اور بفضلہ تعالیٰ ان تمام بیٹوں کی جن کے احمدیوں کے ہاں رشتے ہوئے اولاد ہے۔پہلے والد صاحب کو میاں محمد عبد الرحیم خاں صاحب کا رشتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں کرنے کا خیال تھا۔لیکن ایک دفعہ مجھے ایک خط لکھا کہ جس میں تحریر تھا کہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ میرے لڑکوں میں سے کسی کی شادی حضرت مسیح موعود کے گھر میں ہو۔پہلے میرا خیال تھا کہ عبدالرحیم خان کیلئے پیغام دیا جائے۔لیکن اپنے لڑکوں میں سے تم کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ تمہارا پیغام دوں لیکن اس کے متعلق تمہاری رائے پوچھنا چاہتا ہوں۔لیکن رشتہ کرنے سے پہلے تمہیں یہ سوچ لینا چاہئے کہ یہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہے کہ جس میں سے تم گز رو گے اگر تم پورا حسن سلوک کرسکو گے اور اپنے آپ کو اپنی بیوی کے برابر نہیں سمجھو گے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کا محض فضل سمجھو گے۔تب اس امر کا تہیہ کرو ورنہ میں ڈرتا ہوں کہ کسی ابتلاء میں نہ پھنس جاؤ اور مجھے نصیحت کی کہ اپنے آپ کو ان کے برابر نہ میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب نے استفسار پر کہا کہ مجھے یہ بات یاد نہیں۔میاں محمد عبد اللہ خان صاحب نے عمل کیا اور فائدہ بھی اٹھا لیا۔