اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 40 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 40

40 سمجھنا۔مجھے چونکہ پہلے خواب بھی آپکا تھا اور اس سے بڑھ کر میری خوش قسمتی کیا ہوسکتی تھی کہ میرا رشتہ حضور کے ہاں ہو۔میں نے والد صاحب کی تمام شرائط کو مانتے ہوئے ہاں کہہ دی اور بہت سوچ بچار اور استخارہ کے بعد یہ رشتہ ہو گیا۔اس سے پہلے نواب صاحب والئی مالیر کوٹلہ نے حضرت نواب صاحب کو لکھا تھا کہ میری ایک بیٹی اور دو بھانجیاں ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ آپ کے تینوں بیٹوں سے بیاہ دی جائیں۔لیکن آپ نے کہا کہ آپ اس خیال کو حرف غلط کی طرح دل سے مٹادیں۔لیکن بعد میں بہت زور دینے پر مکرم میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب کیلئے رشتہ منظور کر لیا۔رشتہ کے متعلق خط و کتابت حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ جن کی ولادت 25 جون 1904ء کو ہوئی تھی۔ان کے رشتہ کے حصول کیلئے حضرت نواب صاحب نے جو خط و کتابت کی۔وہ اہم ہونے کے باعث یہاں درج کی جاتی ہے۔آپ نے میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کو تحریر کیا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ دارالسلام 9 مئی 1914ء یا اپنی سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم۔میں چاہتا ہوں کہ تمہارا رشتہ امتہ الحفیظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی سے ہو۔اور مجھ کو اس لئے یہ تحریک ہوئی ہے کہ اس وقت میں تم کو نسبتاً دیکھتا ہوں کہ دوسرے بھائیوں کی نسبت تمہیں دین کا شوق ہے۔اور اس سے میں خوش ہوں مگر ساتھ ہی میں یہ کہتا ہوں میری خوشی اور ناراضگی حالات پر مبنی ہے۔جس طرح اب میں تم سے خوش ہوں اگر تم خدانخواسته اب حالت بدل دو تو پھر ناراض ہوں گا۔۔۔۔اب میں پھر رشتہ کے متعلق لکھتا ہوں۔اس معاملہ میں ایک مشکل بھی ہے۔اگر تم اس مشکل کی برداشت کر سکتے ہو تو رشتہ کی طرف توجہ کرنا ورنہ پھر بہتر ہے کہ تم ہاں نہ کرنا۔دوسرے کہ رشتہ کے بعد حضرت مسیح موعود یا اہل بیت مسیح موعود سے ہمسری اور ہم کفی کا خیال اکثر لوگ کر بیٹھتے ہیں۔اور اس سے ابتلاء آتا ہے۔قابل غور امر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ رشتہ کیوں چاہا جاتا ہے۔صاف بات ہے کہ جب ان کے کپڑے تک بابرکت ہیں تو ان کے جگر کے ٹکڑے کیوں نہ با برکت ہوں گے۔اور نبی جن کی وجہ سے ان کی بیوی ماں بن گئیں۔تو پھر اس ماں کی طرح کیا کچھ عزت ہونی