اصحاب احمد (جلد 12) — Page 205
205 آئے کیونکہ یہ کوٹھی نزدیک تھی۔ڈاکٹر فوراً پہنچ سکتے تھے۔ڈاکٹر روزانہ دیکھتے تھے۔ماڈل ٹاؤن دور تھا۔آپ کی صحت دن بدن گرتی گئی اور آخری ہفتہ بخار بھی بہت بڑھ گیا۔ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ دل کی وجہ سے بخار ہے۔17 ستمبر کو رات کو آٹھ بجے کے قریب ابا جان نے اجابت محسوس کی۔امی نے بیڈ پین لگایا اور تھوڑی ہی دیر کے بعد آپ نے دروازہ کھولا۔اور گھبرا کر کہا منور کو جلدی بلاؤ اسی وقت بھائی منور تشریف لے آئے۔ابا جان کا سانس اکھڑا ہوا تھا اور سخت تکلیف تھی۔ڈاکٹر محمد یوسف صاحب بھی آگئے اور فور أعلاج شروع کر دیا گیا اور ٹیکہ بھی دے دیا جس سے آپ کو کچھ سکون ہوا اور سانس کی حالت بھی قدرے بہتر ہوگئی۔مگر ڈاکٹروں کے نزدیک حالت نازک تھی۔فوراً آکسیجن بھی دینی شروع کر دی گئی۔ٹیکے کے اثر سے آپ ساری رات غنودگی کی حالت میں رہے۔بلڈ پریشر اور نبض کی حالت اچھی نہ تھی۔رات گزر رہی تھی۔ہم سب دھڑکتے ہوئے دلوں کیسا تھ دم بخود آپ کو کنکی لگائے دیکھ رہے تھے۔آپ بار بار ٹھنڈے پسینوں میں ڈوب جاتے۔امی رومال سے بار بار آپ کی پیشانی اور چہرے سے پسینہ پونچھ رہی تھیں دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکل رہی تھیں۔یا اللہ ! صرف ایک دفعہ اور ابا جان کو بچالے اور پھر ایک معجزہ دکھا دے۔مگر خدا تعالیٰ کا حکم آن پہنچا تھا۔با وجود تمام کوششوں کے وہ وقت آن پہنچا جس کا تیرہ سال سے خطرہ تھا اور جو پاک اور نیک لوگوں کی گریہ وزاری اور کثیر صدقات اور امی کی انتھک محنت و خدمت سے تیرہ سال تک ملتوی ہور ہا تھا۔صبح آٹھ بجے کے قریب ہمارے پیارے شفیق اور انتہائی محبت کرنے والے باپ ہم سے ہمیشہ ہمیش کیلئے جدا ہو گئے۔اور تقدیر مبرم مالک حقیقی کا آخری بلا والے کر آ پہنچی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ میرے ابا جان بہت عبادت گزار، تہجد گزار اور دعا گو تھے۔آپ ہمیشہ نماز اول وقت پر اور اہتمام سے ادا کرتے تھے اور نماز با جماعت سے عشق تھا۔قادیان میں آپ کا ہمیشہ معمول رہا کہ نماز تہجد ادا کر کے آپ مسجد میں تشریف لے جاتے اور واپس آکر بہت دیر تک قرآن مجید کی تلاوت فرماتے۔لاہور میں دل کی بیماری کے بعد جب آپ کو ذرا بھی اجازت چلنے پھرنے کی ملی۔سب سے پہلے آپ نے نماز باجماعت کا انتظام کیا اور ہمارے ہاں ماڈل ٹاؤن میں با قاعدہ نماز با جماعت ہونے لگی۔آپ انتہائی متقی ،خلیق ، ملنسار، مہمان نواز اور غریب نواز تھے۔آپ اللہ تعالیٰ سے بے حد پیار کرنے والے اور حضرت رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود