اصحاب احمد (جلد 12) — Page 181
181 اور بیلدار سے جو سرکاری ڈیوٹی پر تھا تختی کی گئی تھی اور اس نے لازماً شکایت کی ہوگی۔لیکن اس کے بعد ہمیں قطعاً کوئی نقصان نہیں پہنچا نہ ہم سے باز پرس ہوئی۔عدم کا رروائی کی وجہ کاعلم نہیں ہوسکا۔“ 35۔والد فرزند کی نظر میں آپ کے فرزند مکرم خان شاہد احمد خان صاحب کے تاثرات ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں :۔والد محترم نہایت با قاعدگی سے تہجد پڑھتے تھے۔اور اس میں بلند آواز سے دعائیں کرتے تھے عرصہ تک میں سمجھتا رہا کہ نماز تہجد شاید بچوں کو معاف ہے اور بڑوں پر فرض ہے کیونکہ میں نے والد صا حب کواس باقاعدگی سے تہجد ادا کرتے ہوئے دیکھا کہ مجھے یہ معلوم کر کے از حد حیرت ہوئی کہ یہ نماز فرض نہیں۔گو بعض لوگ اسے معمولی سمجھیں لیکن میری نظر میں غیر معمولی ہے اور اب تک اس کا اثر میرے ذہن پر قائم ہے اور یہ نظارہ میرے ذہن پر بچپن میں ایسا کھب گیا تھا۔کہ اب بھی جب میں سوچتا ہوں تو چند لحہ قبل کی بات معلوم ہوتی ہے۔ایک دفعہ سفر کراچی میں آپ کے ہمراہ تھا۔ان دنوں یہ سفر دوراتوں اور ایک دن میں طے ہوتا تھا۔رات کو آپ نے مجھے نچلے برتھ پر سلا دیا۔اور خود او پر والے برتھ پر سو گئے۔رات کے آخری حصہ میں مجھے ایک مخصوص آواز نے جگا دیا۔میں نے اوپر کی طرف جھانکا تو آپ کو حسب معمول اپنے رب کے حضور نماز تہجد میں گریہ وزاری میں مصروف پایا۔آپ اپنے بچوں سے بے حد پیار کرتے تھے۔اور بے انتہا محبت سے آپ نے تمام بچوں کی پرورش کی۔اور ہر طرح سے ان کو ناز و نعم سے پالا۔لیکن دینی امور کی پابندی آپ نہایت سختی سے کرواتے تھے۔قادیان کی شدید سردی کسے بھولی ہوگی۔آپ موسم سرما میں ہمیشہ نماز صبح مسجد نور میں ادا کرتے اور ساتھ ہی مجھے بھی باقاعدگی سے لے جاتے تھے اور اس امر کا آپ نے کبھی خیال نہیں کیا کہ یہ بچہ ہے ان سرد برفانی ہواؤں میں بیمار پڑ جائے گا۔صوم وصلوٰۃ کی پابندی کرانے میں آپ نے آخر عمر تک کبھی ہمارا لحاظ نہیں کیا۔آپ کی رحمدلی کا ایک واقعہ میرے بچپن کے ذہن میں ایسا نقش ہوا ہے اور اس کی یا داس طرح تازہ ہے کہ جیسے کچھ ہی دیر قبل کی بات ہو۔ایک دفعہ ہم آپ کے ساتھ لاہور گئے کار کا ڈرائیور چند دن پہلے ہی ہماری ملازمت میں آیا تھا۔آپ نے اسے بہت سا رو پیدا اخراجات کیلئے دیا اور آپ کی