اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 155 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 155

155 بیان فرماتے رہے کہ کس طرح پیدل اور گھوڑوں پر سارے سندھ کا سفر کیا۔بھوک پیاس کی پروانہ کی۔انجمن تحریک جدید ، صدر انجمن اور اپنے خاندان کیلئے اراضی پسند کیں۔جو ہجرت کے بعد بے سروسامانی کی حالت میں بہت بڑی امداد ثابت ہوئیں۔آپ کا دستر خوان وسیع تھا۔شاید ہی کوئی موقعہ آیا ہو کہ کسی مجبوری سے آپ نے کھانا اکیلے تناول فرمایا ہو۔بڑی بڑی دعوتوں میں بڑے زمیندار اور افسران مدعو ہوتے۔مجھے اپنے پاس دائیں طرف بٹھاتے اور فرماتے کہ تم آداب مجلس سے واقف ہو۔ایک دفعہ کلکٹر مع افسران مدعو تھے۔کھانے کے آخر پر سویٹ ڈش پھراتے ہوئے خادم میرے پاس پہنچا تو مقدار کم رہ گئی تھی اس نے مجھے نظر انداز کر کے آپ کے سامنے کر دی۔آپ نے اسے نہایت خشمگیں نظر سے دیکھا اور تنبیہ کی تو وہ سمجھ گیا اور میرے سامنے ڈش کر دی۔میں نے تھوڑی سی مقدار لی تو آپ نے کافی مقدار اپنے ہاتھ سے میری پلیٹ میں ڈالتے ہوئے فرمایا کہ میں سیر ہو چکا ہوں بعد میں بھی اس خادم کو سخت ناراض ہوئے۔نتیجتاً دعوتوں میں وہ خادم ہماری طرف نہ آتا۔سگریٹ نوشی ترک کرنے کا ارشاد فرمایا۔اور اس کے ترک کرنے اور بعض اور نیکیوں کے اختیار کرنے سے مشروط میری ترقی کر دی۔اطمینان دلانے پر فرمایا کہ ترقی تو میں نے دینی ہی تھی۔میں نے چاہا کہ نیکی کی تحریک بھی کر دی جائے۔آپ نے سیرت النبی کے جلسہ کیلئے مضمون تحریر کر کے دیا جو سنایا گیا۔بعد ازاں الفرقان سیرت النبی نمبر میں 1960ء میں شائع کر دیا گیا تھا۔آپ مجھے اہلیہ سے حسن سلوک کی ہمیشہ تلقین فرماتے تھے یہ بھی فرماتے تھے کہ ہر ماہ کچھ رقم دے دینی چاہئے جو وہ اپنی مرضی سے خرچ کریں اور اس کا حساب نہیں لینا چاہئے۔اس طرح محبت بڑھتی ہے۔حضرت بیگم صاحبہ نے اہلیہ کو میرا خیال رکھنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا جب خاوند گھر آئے تو نہایت تپاک سے استقبال کرنا چاہئے لباس بھی صاف ہونے چاہئیں۔کل وہ باہر سے آئیں گے۔میرے ہاں اس سے پہلے آنا۔خود بنا سنوار دوں گی۔اور دو بہترین قمیصیں بھی عنایت کیں۔ایک دفعہ مجھے فرمایا خواب میں آپ کو تکلیف میں دیکھا تھا۔دعا بھی کی اور میاں عباس احمد کو امداد کیلئے بھی لکھا تھا۔ایک دفعہ آپ شدید علالت کے باعث میو ہسپتال میں داخل تھے۔عیادت کیلئے حاضر ہوا۔تو نہایت نحیف آواز میں فرمایا کہ محکمہ سے ( جو میں ہزار روپیہ آٹے کی لپائی کا ) رکا ہوا روپیہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔تار کی ہوئی آپ کی تنخواہ ادا ہو سکے۔( قریباً نصف نصف سال کی سب کی