اصحاب احمد (جلد 12) — Page 145
145 جب تک میں کسی معاملہ کو خود نہ دیکھ لوں اور خود ہی رپورٹ نہ لکھوں مجھے تسلی نہیں ہوتی۔“ 24۔ایک وکیل کی ناقدانہ نظر میں محترم شیخ نور احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور جو آپ کی مترو کہ جائیداد کے تعلق میں آپ کے قانونی مشیر تھے۔ان کی ناقدانہ نظر میں آپ اور آپ کے اہل بیت تقویٰ کے اعلیٰ مقامات پر فائز پائے گئے۔شیخ صاحب رقم فرماتے ہیں :۔” آپ کی وفات حسرت آیات کے صدمہ کو وسیع طور پر انفرادی اور جماعتی سطح پر محسوس کیا گیا ہے۔آپ کے اخلاق حمیدہ تعلق باللہ اور ہر شعبہ زیست میں متقیا نہ خصائل ایسے امور ہیں کہ جن کی بناء پر بلا تامل کہا جا سکتا ہے کہ ایسے انسان جہانِ حاضر میں بہت کم ہو سکتے ہیں۔مجھے بحیثیت وکیل آپ کی خدمات بجالانے کا شرف حاصل ہوا۔اس لحاظ سے آپ کے محاسن واخلاق کے بعض پہلو ایسے ہیں کہ جن کا مطالعہ کرنے کا موقعہ غالبا خاکسار سے زیادہ کسی کو نہ ملا ہوگا۔1947ء میں قادیان سے ہجرت کے معا بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے احمد یہ مسجد بیرون دہلی دروازہ میں ایک خطبہ جمعہ کے دوران افراد جماعت احمد یہ لا ہور خصوصاً بعض نوجوانوں کے متعلق ایسے مصیبت کے وقت میں بے اعتنائی کا رویہ اختیار کرنے کا ذکر فر مایا۔میں ان دنوں لاء کالج میں متعلم تھا۔مگر تعطیلات گرما کے باعث صرف 18 روز پیشتر ایک فوجی افسر کی نوازش سے آرڈینینس ڈپو لاہور چھاؤنی میں بطور سینئر کلرک دو ماہ کیلئے ملازم ہوا تھا۔حضور پر نور کی مقدس زبان سے یہ الفاظ سنتے ہی دل میں ارادہ کر لیا کہ جمعہ کی نماز کے فوراً بعدا اپنی خدمات رضا کارانہ طور پر پیش کر دوں گا۔چنانچہ نماز سے فارغ ہوتے ہی متعلقہ دفتر میں استعفی لکھ کر بھیج دیا اور جودھامل بلڈنگ پہنچ کر دفتر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔جو ان دنوں ناظر اعلیٰ تھے آپ کے مشفقانہ استفسار پر خاکسار نے اپنے کوائف اور ارادہ کا اظہار کیا۔تو بہت خوش ہوئے اور مسکراتے ہوئے فرمایا۔کہ ابھی مولوی صاحب ناظر انخلاء کی طرف سے ایک کارکن کیلئے شدید مطالبہ ہورہا تھا۔ایک آدمی کو میرے ساتھ بھیجا۔جس نے دفتر کے کمرہ سے نکلتے ہی مذاقاً کہا کہ آپ کی ڈیوٹی تو بیت الخلاء میں لگی ہے۔وہ ایام اور وقت ایسا تھا کہ میں ایسے مذاق سے محظوظ ہونے کے موڈ میں نہ تھا۔ناظر صاحب نے مجھے فرمایا کہ دو تین چوہڑے لے کر سیمنٹ بلڈنگ کو صاف کراؤ اور چوہڑوں