اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 97 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 97

97 پردہ میں آپ کے میاں محترم کی وفات کے شدید صدمہ کو اس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم میں کا سامان بہم پہنچا کر کر دیا۔اس میں کیا ہی نعمت عظمیٰ پنہاں تھی۔یہ امر نہ صرف ممالک یورپ کیلئے موجب صد برکات ہوا۔بلکہ آپ کے خاندان کیلئے بھی تا ابد باعث صد افتخار ہوا۔تاریخ احمدیت میں یہ امر ہمیشہ یادگار رہے گا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس صاحبزادی محترمہ نے 24 اگست 1962ء کو زیورک میں وارد ہو کر اگلے روز بروز ہفتہ صبح ساڑھے دس بجے قلب یورپ میں یعنی سوئٹزر لینڈ کے مرکزی شہر ز یورک میں خانہ خدا تعالیٰ کی عمارت کا سنگ بنیاد اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اپنے دست مبارک سے رکھنے کی توفیق پائی۔یہ یورپ کی پانچویں مسجد ہے۔ایک خصوصی تقریب میں آپ نے زیر تعمیر مسجد کی محراب والی جگہ کے نیچے بنیا د میں وہ اینٹ رکھی جس پر سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کی ہوئی تھی۔اس مبارک تقریب میں سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے احمدی احباب کے علاوہ دیگر ممالک کے مسلمانوں نے بھی شرکت کی۔اور پریس نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔چنانچہ اخبارات اور ریڈیو کے نمائندے خاص تعداد میں شریک ہوئے۔ریڈیو نے پوری کا رروائی ریکارڈ کرنے کے علاوہ حضرت ممدوحہ کا ایک خصوصی پیغام بھی ریکارڈ کیا۔جس کا امام مسجد ہیمبرگ چوہدری عبداللطیف صاحب نے جرمن زبان میں ترجمہ کیا تھا۔0 (الفضل 28 اگست 1962 ء ماخوذ از رپورٹ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ مجاہد سوئٹزرلینڈ ) حافظ قدرت اللہ صاحب امام مسجد ہالینڈ لکھتے ہیں کہ 17 اگست کو بروز جمعہ حضرت ممدوحہ مع اپنی دو صاحبزادیوں اور برادر زادہ صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب ابن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب وارد ہوئیں۔ایمسٹرڈم کے ہوائی اڈہ پر استقبال کیا گیا۔آپ نے اپنے قدوم سے عمارت مسجد کو برکت بخشی۔اس سے قبل حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بھی زیر تعمیر مسجد میں تشریف لائے تھے اور دعا فرمائی تھی۔یہ مسجد جو براعظم یورپ کے ساحل پر اولین مسجد ہے خواتین کی قربانیوں سے معرض وجود میں آئی ہے۔( الفضل 2 ستمبر 1962ء) چوہدری عبد اللطیف صاحب مجاہد جرمنی لکھتے ہیں کہ آپ 19 اگست 1962ء کو ہیمبرگ وارد ہوئیں اور تین دن قیام فرمایا۔ہوائی اڈہ پر جماعت احمدیہ نے خیر مقدم کیا۔استقبال کرنے والے پاکستانی احمدیوں کے علاوہ جرمن نو مسلم بھی تھے۔جرمن پریس نے آپ کے ورود کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا اور اسلام میں عورتوں کے بلند مقام پر روشنی ڈالی۔( الفضل 25 اگست 1962 ء) اس سفر کے تعلق میں الفضل میں متعدد بار آپ کا ذکر ہوا ہے۔( مثلاً (باقی حاشید اگلے صفحہ پر )