اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 86 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 86

86 و معروف ڈاکٹر جب دوسرے دن میرے کمرہ سے نکلے تو مجھے زندہ دیکھ کر MIRACLE MIRACLE ( معجزه معجزہ) کہتے ہوئے نکلے۔ان کو یہ خیال ہی نہ تھا کہ آج رات میں زندہ کاٹ سکوں گا۔ایک اور ڈاکٹر جو کہ خون کا ٹسٹ وغیرہ لیا کرتے تھے۔وہ بھی دوسرے ڈاکٹروں کی طرح میری زندگی سے مایوس تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ میری صحت کافی بحال ہوچکی ہے۔تو فرمانے لگے کہ میں بورڈ پر آپ کیلئے دعا کی تحریک پڑھتا تھا اور خوش ہوتا تھا۔کیونکہ مجھے بھی دعاؤں کی طرف راغب ہونا بہت پسند ہے۔دراصل انہوں نے کہا کہ جو بات تدبیر سے نہیں ہو سکتی تھی۔وہ حی و قیوم خدا کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ہو گئی ہے۔ڈاکٹر محمد یوسف صاحب جن کے ایک لمبا عرصہ زیر علاج رہا ہوں اور اب بھی وقتاً فوقتاً میرے علاج میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ڈیڑھ سال تک میری زندگی سے مایوس رہے۔اب چند روز ہوئے ہیں کہ کچھ بے احتیاطی سے اپنی بساط سے چند قدم زیادہ چل لیا۔جس کی بناء پر میری طبیعت ذرا خراب ہو گئی اور ڈاکٹر صاحب موصوف کو مجھے بلانا پڑا۔تو انہوں نے پہلی دفعہ بشاشت سے فرمایا کہ اب پہلے کی نسبت تمہاری حالت بہت بہتر ہے۔اس تکلیف کے دور ہو جانے کے بعد چلنے پھرنے کی مشق کو جاری رکھنا چاہئے۔ورنہ انہوں نے آج تک کبھی تسلی آمیز گفتگو نہ کی تھی۔دراصل شروع سے وہ میرے معالج ہونے کی وجہ سے میری حالت سے وہ پوری طرح واقف تھے۔میری حالت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی قسم کی حوصلہ افزائی نہ کرتے تھے۔تا کہ میں کوئی بے احتیاطی نہ کر بیٹھوں۔الغرض میرا اس تمہید سے یہ مطلب ہے کہ میری اس بیماری سے رہائی محض اللہ تعالیٰ کے کرم کا از حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ) '' صبح دس بجے اچانک حرکت قلب بند ہونے کا شدید ترین دورہ ہوا۔دو ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد افاقہ ہوا۔مگر ساڑھے چار بجے پھر شدید دورہ ہوا اور ساتھ ہی تشیخ بھی۔حالت بہت بگڑ گئی مگر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ابھی تک حالت خطرہ سے خالی نہیں“۔(الفضل 9 فروری 1949ء) ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے لکھا کہ: یہ ایک شدید قسم کا حملہ تھا جس میں دل کی شریانوں میں خون منجمد ہو جاتا ہے۔اور عارضی طور پر دل کی حرکت بند ہو جاتی ہے۔اکثر اوقات تو لوگ اس حملہ سے جانبر نہیں ہو سکتے“۔(الفضل 11 فروری 1949ء) حضرت ام المومنین نے بھی دعا کی تحریک فرمائی۔(الفضل 23 فروری 1949ء) عرصہ تک اعلانات دعا ہوتے رہے۔