اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 74 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 74

74 ہمیشہ ہمیش کیلئے اس حفیظ و عزیز ورفیق کی گود میں آجائیں جو اپنے بندوں کی رفاقت کو بھی نہیں چھوڑتا۔پ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ ہم نے دنیا میں غالب آتا ہے اس لئے جیسے حضرت اسمعیل شہید نے غیرت کھا کر سکھ تیراک کا مقابلہ کر کے اسے شکست دے دی تھی۔ہمیں بھی دوسروں سے بڑھنا چاہئے۔بلکہ میں نے اپنی اور دیگر احمد یہ اسٹیٹیوں میں کبھی فرق محسوس نہیں کیا۔وہ مومنانہ مسابقت میں ہم سے بھی بڑھنے کی کوشش کریں ہماری اسٹیٹ کو اور زیادہ محنت کرنی ہوگی کیونکہ ہماری اراضی ناقص ہے اس طرح احمد یہ اسٹیٹس کا انتظام بہتر سے بہتر ہوگا اور اس جذ بہ سے ہم بھی ثواب کے مستحق ہوں گے۔احمدی زمینداروں کو اس مسابقت میں جو امداد در کار ہو دینے کو تیار ہوں۔کیونکہ اس دوڑ کی بنا حسد نہیں بلکہ مومنانہ جذبہ ترقی ہے۔بفضلہ تعالیٰ ہماری اسٹیٹ خدمت دین میں اور چندہ میں دوسری اسٹیٹس سے بڑھ کر ہیں تبلیغی مساعی بڑھ رہی ہیں۔بعض نہایت آوارہ لڑکے یہاں آئے لیکن تہجد گزار بن گئے اور ان کے والدین شکر گزار ہوئے۔ہمارے اکثر کارکن تہجد گزار ہیں۔باقیوں کو بھی تہجد گزار ہونا چاہئے۔پھر کوئی مقابلہ نہ کر سکے گا۔لوگوں پر نمونہ اثر کرتا ہے۔معاملہ کی صفائی اور ماتحتوں سے بچوں جیسا سلوک چاہئے۔وہ آپ کو اپنا خیر خواہ سمجھیں۔میں نے کارکنوں کو بار بار زبانی اور تحریری کہا ہے کہ لین دین میں قطعاً زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔آپ احتیاط کرتے ہوئے۔بے شک میرا حصہ کسی ہاری کو دے دیں لیکن کسی ہاری کا حق میرے لئے حاصل نہ کر یں۔میں ہر ایک اس چیز کو جو کہ نا جائز طور پر حاصل کی جاتی ہے۔جہنم کی آگ کا ایندھن تصور کرتا ہوں۔میں تمام ہاریوں کے رو برو آپ لوگوں کو کہتا ہوں کہ ایسی چیز جو کہ جبر سے زیادتی سے ہاریوں سے آپ لوگ حاصل کریں گے۔میں اس سے بری ہوں۔اللہ تعالیٰ کے حضور اس کا جواب دہ آپ لوگ ہوں گے میں نہیں ہوں گا۔اگر کسی پر زیادتی ہوتی ہے۔میرے پاس آئیں۔انشاء اللہ اس کا حق اس کو دلایا جائے گا۔(الحکم 14،7 مئی 1943ء) انفاق فی سبیل اللہ اس پاک جوڑے کے انفاق فی سبیل اللہ بسلسلہ تحریک جدید دفتر اول مرقوم ہے:۔محترمہ صاحبزادی صاحبہ اور جناب میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کے انیس سالہ چندہ کی تفصیل پر نظر ڈالنے سے قارئین کو معلوم ہوگا۔کہ انہوں نے نہایت شاندار نمونہ پیش کیا ہے۔صاحبزادی صاحبہ