اصحاب احمد (جلد 12) — Page 73
73 اللہ تعالیٰ شاہد ہے کہ اس رحمت اور برکت کو میں نے کبھی اپنی ذات کی طرف منسوب نہیں کیا۔میرے پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ حضرت ام المومنین علیہا السلام کی دعاؤں کے طفیل ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے قلب میں میرے لئے پیار و محبت پیدا کر دیا ہے ایک وقت تھا کہ وہ خود بھی دعا ئیں فرماتی تھیں۔بلکہ ہر ایک کو کہتی تھیں کہ عبداللہ خاں کے لئے دعائیں کرو۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے بعد میری گردن جذبات شکر اور محبت سے ان کے حضور جھکی ہوئی ہے۔میری والدہ جبکہ میں چار پانچ سال ( بلکہ قریباً تین سال۔مولف) کا تھا۔فوت ہوگئی تھیں۔میں ماں کی محبت سے بے خبر تھا۔لیکن میرے و دود رؤف مولیٰ نے حضرت اماں جان کے وجود میں مجھے بہترین ماں اور بہترین ساس دی۔میں نے آج تک اس رقبہ کو حضرت اماں جان کا عطیہ تصور کیا۔بلکہ اس جہیز کا جز خیال کیا۔جو انہوں نے اپنی لڑکی کو دیا۔میں نے اسی جذ بہ شکر اور محبت کی وجہ سے اس رقبہ کا نام نصرت آباد آپ کی اجازت سے آپ کے نام مبارک پر رکھا ہے۔اس لئے یہ حضرت اماں جان کا عطیہ ہے۔ان کی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔اب آپ لوگ خود ہی سمجھ لیں کہ حضرت مسیح موعود۔۔۔کے گھر سے آئی ہوئی چیز کس قدر با برکت ہوسکتی ہے۔جب کبھی بھی کوئی دقت پیش آئی۔میں حضرت اماں جان کے حضور دعا کیلئے حاضر ہوتا ہوں۔وہ نہایت تڑپ سے میرے لئے دعائیں فرماتی ہیں۔اس لئے یہ سب خیر و برکت، یہ دیانت وامانت کے پتلے، یہ کوشش اور محنت کے مجسمے ( یعنی کا رکن۔مولف ) حضرت اماں جان کی دعاؤں کا ثمرہ ہیں۔پس اگر میں یا کوئی اور اس خیر و برکت کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہے۔اس کو آج نہیں تو کل ضرور شرمندگی اور ندامت کا منہ دیکھنا پڑے گا۔پس نہایت فروتنی سے کام کرتے چلے جاؤ۔اپنی کوششوں کے ساتھ بہت رو رو کر دعائیں کرو کہ جو نیک کام اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہم کو دیا ہے۔ہم اس کو اپنی کسی کمزوری سے ضائع نہ کر دیں۔ہمارے افعال ارحم الراحمین کے فضلوں کو ہمیشہ جذب کرنے والے بنے رہیں۔اور ہم خاکسار مولف کو آپ نے اپنے مکتوب مورخہ 21 اپریل 1952ء میں تحریر فرمایا:۔در اصل اماں جان انہیں کی اماں نہیں ہیں۔بلکہ میری بھی اماں ہیں۔میرے ساتھ جو محبت اور پیار کا سلوک انہوں نے کیا ہے اپنے ساتھ ایک داستان رکھتا ہے جب میری شادی ہوئی تو مجھے ایک عورت کے ہاتھ کہلا کر بھیجا کہ میاں کی عمر زیادہ تھی۔یعنی میرے والد کی۔تم چھوٹی عمر والے داماد ہو۔تم مجھ سے شرمایا نہ کروتا کہ جو کمی رہ گئی ہے اس کو پورا کر سکوں پھر آپ نے حقیقی ماں بن کے دکھایا‘۔(اصحاب احمد جلد دوم ص 647)