اصحاب احمد (جلد 12) — Page 72
72 جاؤں۔میں آپ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں۔کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کی توفیق دے۔دراصل عملی طور سے ہے بھی یہی۔میں اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو بیٹیوں کا خادم سمجھتا ہوں۔میری ساری کوشش اور محنت صرف اس لئے ہے کہ اس پاک وجود کے جگر پارے آرام پائیں۔جن میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک کو میرے والد اور ایک کو میرے سپرد کیا ہے۔میرے دونوں بچے اللہ تعالیٰ کی خدمت کیلئے وقف ہیں۔میں یہاں اس لئے کام کر رہا ہوں کہ وہ خدا اور رسول کے چمن کے مالی بنے رہیں۔وہ اپنے روزگار کی فکر سے آزا در ہیں۔وہ صرف اللہ کے بندے بنے رہیں۔ان کو کسی غیر کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔جبکہ وہ خدا تعالیٰ کیلئے وقف ہیں۔اللہ تعالیٰ خود ان کا کارساز ہوگا۔مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کا رسول فرماتا ہے تم میں سے وہ بہتر ہے کہ جو اپنی اولاد کو آسودگی اور خوشحالی کی حالت میں چھوڑ جاتا ہے۔بہ نسبت اس کے جوتنگی اور فلاکت کی حالت میں ان کو چھوڑے۔یہ سب میری کوششیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کیلئے ہیں۔پس وہ کا رکن یا معاونین جنہوں نے اس کام میں میری مدد کی ہے اگر وہ بھی اس کام کو اسی جذبہ اور اسی نیت کے ساتھ ادا کریں گے جس کا میں نے اظہار کیا ہے۔تو یقیناً یقیناً وہ نہ صرف مالی منفعت ہی حاصل کریں گے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کے وہ مورد ہوں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ میں اپنے اکثر کا رکنوں کو اسی جذبہ کے ماتحت کام کرتے ہوئے پاتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اخلاص اور محبت میں برکت دے اور اپنی نوازشوں اور رحمتوں سے ان کے گھروں کو بھر دے۔جہاں وہ اس دنیا میں ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہمارے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے قرب میں جگہ دے۔آمین اس کے بعد آپ نے کارکنان کا نام بنام ذکر کر کے ان کے تعاون کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے دیگر سٹیٹس کیلئے بہترین نمونہ دکھایا۔ایک صاحب جو بیالیس روپے اور خوراک پر آئے تھے اب ایک ہزار روپے ماہوار پارہے تھے۔اور آپ انہیں ملازم نہیں بلکہ برادر خور دسمجھتے تھے۔ہر ایک کے اوصاف کا ذکر کیا اور بعض کو مزید اصلاح کی طرف نہایت موزوں الفاظ میں ترغیب دلائی۔پھر سب کو توجہ دلائی کہ جب کہ ہم پر رشک کی نظریں پڑ رہی اور ہر طرف سے تعریفی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔زیادہ انعام ملنے پر ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور فرمایا۔