اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 56 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 56

56 جائیں اور آنکھ ، زبان ، کان ، ہاتھ سے گزر کر انسان کو کبیرہ گناہ کا بھی مرتکب بنادیں اور جب کوئی بدی ہوگی تو گویا وہ بدی کرنے والا انسان نگا ہو جائے گا۔کیونکہ ہر ایک گناہ کے سرزد ہونے سے انسان اسی طرح شرمندہ ہوتا ہے جس طرح کہ ننگا ہونے سے شرمندہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان بدیوں کو ڈھانپنے کیلئے عورتوں کو مردوں کا لباس بنایا ہے اور یہ جذبات جو بدیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔صرف مردوں کو ہی نہیں لگے ہوئے۔بلکہ عورتوں کو بھی لگے ہوئے ہیں اسی لئے جیسے عورتیں تمہارا لباس ہیں تم بھی ان کا لباس ہو اسی لئے یہ فرمایا۔تَسَاءَ لُوْنَ بِهِ وَالْاَرْحَام - اس میں یہ اشارہ ہے کہ کچھ عورت کے حقوق مرد پر ہیں اور کچھ مرد کے حقوق عورت پر ہیں۔پس تم آپس میں ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگ لو۔اس میں ایک دوسرا پہلو وہ بھی ہے جو جذبات سے تعلق رکھتا ہے وہ یہ کہ ان جذبات کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے تقاضوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں کہ ایسا ایسا ہو۔ایسے وقت میں اگر کوئی انسان جذبات کی تحریک سے اپنے طبعی تقاضوں کو پورا کرنے کی خواہش کرے۔تو ممکن ہے کہ وہ جائز ہو یا نا جائز۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے نکاح اس لئے رکھا ہے کہ مرد کی فطرت میں ان جذبات کے نیچے جو تقاضے پائے جاتے ہیں۔وہ ان کو عورت سے جائز طور پر مانگ لے اور جو عورت کی فطرت میں تقاضے ہیں وہ مرد سے مانگ لے۔نکاح کے موقع پر ایک اور آیت بھی پڑھی جاتی ہے جو سورۃ احزاب کے آخر میں ہے وہ یہ ہے کہ يا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدَاً - یعنی ایمان والو! تقویٰ اللہ کو اختیار کرو اور منہ سے بات کہو تو صاف اور سیدھی کہو بعض نکاح اس قسم کے ہوتے ہیں جن میں مبالغہ ، دھوکہ، اور فریب کو کام میں لاکر اپنے فائدہ کی غرض سے دوسرے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔اس لئے فرمایا کہ تم جو نکاح کا یہ معاہدہ کرو تو یہ اس بناء پر ہو کہ سب سے پہلے تقویٰ تمہارے مدنظر ہو۔تقویٰ سب برائیوں کی جڑ کاٹتا ہے۔خدا تعالیٰ نے تقویٰ کا لفظ بیان فرما کر پھر اس کی تائید میں کئی اور الفاظ اور آیتیں ساتھ رکھی ہیں۔ان ہی میں سے ایک یہ آیت ہے فرمایا اس معاملہ میں بیچ دار طبیعت کے ساتھ مغالطہ اور خطر ناک طرز عمل اختیار نہ کرو۔بلکہ بہت صاف اور سیدھی اور وہ بات جوحسن معاشرت اور حسن معاملت کے اعلیٰ پیمانہ پر قائم ہو۔وہ کہو نہ کہ پیچیدہ، دھوکہ دینے والی اور شریعت کے خلاف۔پھر فرمایا اس کے فوائد یہ ہوں گے کہ يُصْلِحُ لَكُمُ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ - تمہارے اعمال جو تقویٰ اور زبان کی راستی کے نیچے ہوں گے ان کی اصلاح کی جائے گی۔دنیا میں