اصحاب احمد (جلد 12) — Page 54
54 پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک مسلم جو نکاح کرتا ہے اور اسلام زن وشوی کے تعلقات قائم کرنے کی ہدایت دیتا ہے تو وہ کس غرض پر مبنی ہونے چاہئیں۔ان آیتوں میں ایک لفظ کا بڑا تکرار آیا ہے اور وہ تقویٰ کا لفظ ہے۔گو یا خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے نکاح کی غرض ہی تقویٰ رکھی ہے۔تقویٰ ایک ایسی چیز ہے۔جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجاً۔یعنی اگر انسان کے راستہ میں کسی قسم کی مشکلات ہوں اور وہ ان سے نکلنا چاہے اور نکلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو تقویٰ کرے۔اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کیلئے وہ سامان پیدا کر دے گا۔جن کی وجہ سے ان مشکلات سے مخلصی پا جائے گا۔پھر فرمایا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔اور اس کو تقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے بلا حساب اور بلا تکلیف رزق دیا جائے گا۔گویا اس میں یہ بتایا کہ اگر ایک ایسا انسان ہو جس کو نکاح کرنے کی ضرورت ہو لیکن نکاح کرنے کے سامان موجود نہ ہوں اور وہ عاجز مفلس اور کنگال ہو تو اسے چاہئے کہ تقویٰ اختیار کرے۔تقویٰ سے یہ ہوگا کہ جس قدر مشکلات بھی اس کے راستہ میں روک ہوں گی خدا تعالیٰ ان کو دور کر دے گا۔اور اس کو ان سے نکال دے گا۔دوسرا زن وشوی کے تعلقات کے بعد بھی مشکلات بڑھ جاتی اور پیدا ہو جاتی ہیں۔مثلاً رزق کے متعلق اور ایسا ہی اولا د وغیرہ کے متعلق تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے بھی فرماتا ہے کہ جب تمہارے تعلقات قائم ہونے سے تمہیں یہ مشکلات پیش آئیں گی۔تو تقویٰ کرنے سے یہ بھی دور ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ خود تمہیں رزق دے گا۔جو بغیر حساب کے ہوگا۔اور بلا محنت ہوگا۔بشرطیکہ تم متقی ہو جاؤ۔اس لحاظ سے یہ بات اولاد پر بھی چسپاں ہو سکتی ہے کہ جو نکاح تقویٰ کی غرض سے کیا جائے گا۔اس سے جو اولاد ہوگی وہ بہت پاکیزہ اور کثرت سے ہوگی اور ایسے رنگ میں ہوگی کہ تمہیں اس کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا کہ کس طرح سے نیک ہوگئی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق مشاہدات سے اور نیز تاریخ سے ثابت ہے کہ ان کی اتنی اولاد ہوئی کہ شاید ہی کسی اور نبی کی ہوئی ہوگی۔اس کا باعث یہی تھا کہ انہوں نے تقویٰ کیلئے نکاح کیا اور ان کا تقویٰ بہت بڑا تقویٰ تھا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بیشمار یعنی ابراہیم علیہ السلام کی طرح میری اولاد بھی بے شمار ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرز پر جو نکاح ہوتا ہے یعنی تقویٰ پر جس کی بناء ہوتی ہے۔اس سے اولاد بے حساب اور پاکیزہ ہوتی