اصحاب احمد (جلد 12) — Page 34
34 وہ کیا زمانے تھے ہم بھائیوں میں سے ہر ایک کی سواری کیلئے ایک ایک گھوڑی تھی۔میری مشکی ، عبداللہ خان کی سبزہ ، عبدالرحمن خان کی کمید، ہر ایک کا الگ الگ سائیں تھا کوٹھی سے مدرسہ گھوڑیوں پر جاتے تھے۔جبکہ کچھ عرصہ مدرسہ شہر میں تھا اور ہم دار السلام منتقل ہو چکے تھے۔ہمارا مدرسہ جانا کیا ہوتا تھا ایک جلوس ہوتا تھا۔ہر ایک کا بستہ لے جانے کیلئے ایک ایک لڑکا ملا زم ساتھ ہوتا تھا۔نصف رخصت کے وقت ہم اپنے اندرونی مکان میں آجاتے تھے اور ناشتہ کیلئے بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کی دکان سے پیسٹری، بسکٹ آجاتے تھے اور گھر سے دودھ آ جاتا تھا۔عہد طفولیت میاں عبدالرحیم خاں صاحب خالد بیان کرتے ہیں کہ ہمارا قادیان کا زمانہ ایک کتاب ہے جو میرے دماغ میں اس قدر محفوظ ہے کہ جس وقت میں اس کتاب کو کھولتا ہوں اسے ہر لحاظ سے خوشکن پاتا ہوں۔شاید 1904ء کی بات ہے۔والد ماجد میاں عبدالرحمن خان کو لاہور لے گئے تھے کہ ان کو تپ محرقہ ہو گیا۔ہمیں شاید حضرت اماں جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایماء سے بلایا۔ہمارے اور حضرت مسیح موعود والے حصہ میں صرف ایک دروازہ حائل تھا۔ہم گئے مگر حضرت صاحب کو نہ پایا۔آپ کافی دیر کے بعد تشریف لائے اور جہاں تک میری یاد کام دیتی ہے ایک پلیٹ پلاؤ سے بھری ہوئی لائے۔فرمایا میں نے اس پر بہت دعا کی ہے۔مجھے اب تک یاد ہے میں بلا تکلف اس پر ٹوٹ پڑا۔مگر میاں عبداللہ خان کو جیسے جھینپ سی ہوتی ہے اور بچے نہ کھانے کیلئے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔چنانچہ میاں عبداللہ خاں نے ایسا ہی سماں پیدا کیا۔مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے اس میں سے کوئی لقمہ اٹھایا یا نہیں۔جسمانی لحاظ سے وہ مجھ سے قوی تھے۔مجھے زدو کوب کرنا ان کا روز مرہ کا طریق تھا۔ایک دفعہ استفسار پر مکرم ملک غلام فرید صاحب نے بتایا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام میں ہمارے اساتذہ حضرت مولوی محمد دین صاحب ( حال ناظر تعلیم ) ، حضرت مولوی محمد جی صاحب ہزاروی ( مقیم ربوہ ) ، حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب ( یکے از 313 صحابہ ) ، حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب سابق مہر سنگھ ( یکے از 313 صحابہ )، حضرت صوفی غلام محمد صاحب ( مجاہد ماریشس ) ، حضرت چوہدری غلام محمد صاحب ( بعدہ مینجر نصرت گرلز ہائی سکول ) اور حضرت قاضی عبدالحق صاحب تھے۔