اصحاب احمد (جلد 12) — Page 29
29 29 پھر تحریر فرماتے ہیں :۔آخر جو بار بار کی توجہ کے بعد الہام ہوا۔۔۔اس الہام میں جو میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے فعلی طور پر کئے وہ یہی ہیں کہ ارادہ الہی آپ کی خیر اور بہتری کیلئے مقدر ہے۔۔۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ امر مخفی نہایت ہی بابرکت امر ہے جس کیلئے یہ شرائط رکھے گئے ہیں۔“ یہ خیر و برکت نہ صرف آپ کیلئے بلکہ آپ کے صاحبزادہ میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کیلئے بھی حضور کی فرزندی میں آنے سے ظاہر ہوئی۔ایں سعادت بزور بازو نیست تا خدمات اسلام کی توفیق پانا بخشد خدائے بخشنده یہ ظاہری جسمانی تعلق بھی باطنی روحانی برکات کا موجب تھا۔علاوہ ازیں یہ دعا ئیں اس رنگ میں بھی پایہ قبولیت پہنچیں کہ آپ کو خدمات اسلام و خدمت خلق کی توفیق ارزاں ہوئی۔تبلیغ میں انہماک، ایثار و استقلال ، صاف گوئی، حفظ مراتب ، الحب اللہ والبغض اللہ، شب زندہ داری ، عبادت اور دعاؤں میں انہاک، غرباء پروری اور خدمت خلق کا قابل تقلید نمونہ پیش کرنا۔حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی خدمت، تائید خلافت، ان کا وصی بننا، 1918ء میں انتخاب خلافت کی کمیٹی کا صدر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہونا۔منارة امسیح اور ( دار ) دور الضعفاء کی تعمیرات، الحکم والفضل اور مدرسہ تعلیم الاسلام اور کالج کے قیام کی مالی اعانت کی توفیق پانا۔یہ تمام خدمات تاریخ سلسلہ میں آب زر سے تحریر کئے جانے کے قابل ہیں۔میاں محمد عبد اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں:۔بسا اوقات سلسلہ کے کسی کام کیلئے روپیہ درکار ہوتا تو حضرت اقدس خود تحریک کر کے نواب صاحب سے روپیہ منگوالیتے تھے۔ایک دفعہ حضور نے حضرت ام المومنین کے کنگن غالبا ما لیر کوٹلہ بھیجے کہ انہیں رہن رکھ کر پانصد روپیہ بھیج دیں۔آپ نے کنگن بھی واپس بھیج دیئے اور اپنے ملازم دائی کے بیٹے اللہ بخش عرف آتو کے ہاتھ پانصد روپیہ حضور کی خدمت میں بھیج دیا“ اصحاب احمد جلد دوم ص 463)