اصحاب احمد (جلد 12) — Page 23
23 میں تو دن رات دعا کر رہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعائیں کی گئی ہیں کہ بعض اوقات میں ایسا بیمار ہوا کہ یہ وہم گز را که شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اور خطر ناک آثار ظا ہر ہو گئے۔“ اگر کوئی صورت ایسی ہو کہ عبدالرحمن کو ساتھ لے کر قادیان آجاویں تو رو برو دیکھنے سے دعا کیلئے ایک خاص جوش پیدا ہوتا ہے“۔حضرت نواب صاحب ان کو لاہور سے لے آئے رات ساڑھے تین بجے پہنچے۔حضور اسی وقت تشریف لائے اور بچہ کا حال دریافت فرماتے رہے۔(3) میاں محمد عبد اللہ خان صاحب رض (4) میاں عبدالرحیم خان صاحب ( ولادت 14 جنوری 1897ء) آپ کی شدید علالت اور حضرت مسیح موعود کی شفاعت سے صحت یابی کا ذکر حقیقۃ الوحی میں آتا ہے۔بیرسٹری کا امتحان پاس کر کے کچھ عرصہ وکالت کی پھر دکن میں ملازمت کر لی۔اب بعد پنشن مالیر کوٹلہ میں قیام ہے۔آپ کی اس زوجہ محترمہ نے نومبر 1898ء میں داعی اجل کو لبیک کہا۔وہ حضرت مسیح موعود کی صداقت کی قائل ہو چکی تھیں۔اور ان کا ارادہ تھا کہ زچگی اور نفاس کے بعد حالت طہارت میں بیعت کریں گی۔لیکن ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔حضور نے ان کا جنازہ پڑھا اور توجہ اور الحاج سے دعائے مغفرت کرنے کا وعدہ فرمایا۔دوسری شادی اور ہجرت آپ مرحومہ کی بہن محترمہ امتہ الحمید بیگم صاحبہ کو لے کر جن سے آپ نے شادی کر لی تھی۔بچوں سمیت اواخر دسمبر 1901ء قادیان دارالامان ہجرت کر آئے۔میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب راوی ہیں۔” جب ہجرت کے ارادہ سے قادیان آئے اور حضرت اقدس نے دار مسیح کے سیدہ ام متین صاحبہ والے حصے میں آپ کو ٹھہرایا۔تو حضور نے اس کا کمرہ قالین اور گاؤ تکیہ سے آراستہ کروایا۔دسمبر کے دن تھے۔مغرب کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب آتے تھے اور مجلس لگتی تھی اور کھانا بھی وہیں کھایا جا تا۔عجیب پر کیف و سرور مجلس ہوتی تھی۔نواب صاحب فرماتے تھے کہ حضور کا طریق اور سلوک اس قسم کا تھا۔جیسے مشفق باپ کا اپنے بیٹوں سے ہوتا ہے بے تکلفی والی فضاء ہوتی تھی۔سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اسے پڑھ کر تحریر فرماتی ہیں کہ یہی ذکر اور نقشہ نواب صاحب بیان کرتے تھے۔کمرہ میں ایک گاؤ تکیہ