اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 211 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 211

211 رہتا۔آپ ہمیشہ خواہشمند رہتے کہ سلسلہ کی کوئی خدمت کر سکیں جلسہ سالانہ کے دنوں میں آپ بہت خوش ہوتے۔اور بہت شوق سے جلسہ میں شرکت کرتے حتی کہ اس بیماری سے اُٹھ کر آپ نے کوئی جلسہ بغیر مجبوری کے نہیں چھوڑا۔ایک دفعہ آپ ایام جلسہ میں تھکان اور گردو غبار سے بہت سخت بیمار ہو گئے۔اور آخر سیدی حضرت ماموں جان (خلیفہ اسیح الثانی) نے آپ کو کہلا بھیجا کہ آئندہ آپ نے سٹیج پر بیٹھ کر جلسہ نہیں سنا، آپ بیمار ہیں۔جلسہ سالانہ آپ کی غذا تھی۔اس حکم کے بعد آپ نے یہ ترکیب نکالی کہ جلسہ گاہ کے باہر اپنی موٹر کارکھڑی کر کے اس میں بیٹھے رہتے اور تمام تقریریں سن لیتے۔آپ کا معمول ان ایام میں یہ تھا کہ صبح ہی تیار ہو کر بہشتی مقبرہ تشریف لے جاتے اور پھر بالعموم بعض بزرگوں کے ہاں جا کر ان سے ملاقات کرتے اور پھر قریباً تمام دن برآمدہ میں بیٹھ کر مہمانوں سے محبت و پیار سے ملاقاتیں کرتے۔اور اگر امی ان کی تھکان اور بیماری کے خوف سے منع کرتیں۔تو فرماتے اب اگر زندگی رہی تو ان سے ایک سال بعد ملاقات ہوگی۔اور میرا دل نہیں چاہتا کہ میں کسی کو نہ ملوں۔آپ بہت نفاست پسند تھے۔صفائی اور سادگی بھی آپ کی خاص صفات تھیں۔آپ منکسر المزاج بھی بہت تھے۔آپ میں تکبر اور بڑائی نام کو نہ تھی۔مگر باوجود اس کے آپ رعب والے بھی تھے۔۔ملازم اور ہم گھر کے سارے بچے باوجود آپ سے بے حد بے تکلفی کے ڈرتے بھی بہت تھے۔آپ کی شفقت و محبت کی ایک نہیں ہزاروں مثالیں ہیں۔مگر نہ دل میں ہمت ہے۔نہ قلم میں طاقت ہے کہ میں ضبط تحریر میں لا سکوں۔رنج و راحت کے مواقع پر نگاہیں بے اختیار آپ کو تلاش کرتی ہیں۔جدائی کا درد اور دل کی جلن قدرتی امور ہیں۔لیکن ہم راضی برضائے الہی ہیں۔اے اللہ تعالیٰ ! تو میرے پیارے ابا جان کی روح پر ہزاروں ہزار فضل اور رحمتیں نازل کر۔اور اپنی رحمت کے سایہ میں آپ کو سکینت اور قرار عطا کر۔اور آپ کو بلا حساب جنت میں داخل فرما اور آنحضرت ہے اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک قدموں میں جگہ دے۔صل الله آمين اللهم آمين تَمَّتُ بِالْخَيْرِ وَآخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين