اصحاب احمد (جلد 12) — Page 212
212 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا مکتوب گرامی بنام مولف اصحاب احمد بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود مکرمی و محترمی ملک صلاح الدین صاحب ایم اے۔السلام عليكم ورحمة الله وبركاته اصحاب احمد کی جلد نہم جس میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قا دیانی مرحوم کے حالات اور مشاہدات اور روایات درج ہیں۔آپ کی طرف سے موصول ہوئی۔جَزَاكُمُ الله خَيْراً میں نے اس کا کافی حصہ پڑھ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور حضرت بھائی صاحب کے درجات کو بلند فرمائے۔یہ کتاب خدا کے فضل سے نہایت دلچسپ اور نہایت ایمان افروز ہے۔بعض مقامات پر تو میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا میں اس کتاب کو پڑھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں پہنچ گیا ہوں۔کئی واقعات ایسے نظر سے گزرے جو میرے چشم دید اور گوش شنید تھے۔لیکن میں انہیں بھول گیا تھا۔یا میری یاد مدھم پڑ گئی تھی۔اس کتاب کو پڑھنے سے بہت سی دلکش اور روح پرور یادیں تازہ ہوگئیں۔حضرت بھائی صاحب کو حضرت مسیح موعود کی قریب ترین صحبت میں رہنے کا لمبا عرصہ ملا تھا۔انہوں نے ہر واقعہ کو غور سے دیکھا اور ہر بات کوغور سے سنا اور اسے اپنے ذہن میں محفوظ رکھا اور پھر نہایت دلکش رنگ میں اسے بیان کیا۔فَجَزَاهُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ اس جگہ اس بات کے بیان کرنے میں حرج نہیں کہ اصحاب احمد کی تین جلد میں مجھے خاص طور پر بہت پسند آئی ہیں۔ایک وہ جلد جو حضرت نواب محمد علی خان کے حالات اور روایات پر تی دوسرے وہ جلد جو حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے مشاہدات اور روایات پر پر مشتمل ہے اور تیسرے یہ جلد جو حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے مشاہدات اور روایات پر مشتمل ہے۔میں جماعت کے دوستوں اور خصوصاً نوجوان عزیزوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اصحاب احمد کی جملہ جلدیں خرید کر ان کا مطالعہ کریں اور اپنے ایمانوں کو تازہ کریں۔اور خصوصیت سے مذکورہ بالا تین جلدوں کا تو ضرور مطالعہ کریں۔اس سے انشاء اللہ ان کو ایک نئی روشنی حاصل ہوگی۔فقط والسلام خاکسار مشتمل ہے اور مرزا بشیر احمد 12 جولائی 1961ء