اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 200 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 200

200 آتا تھا اور کہا جاتا کہ حضرت صاحب کی دوا پی لیں تو فورا منہ کھول دیتے تھے۔یہ رات بھی عجیب رات تھی۔ہر طرف اس قدر خاموشی اور اداسی چھا رہی تھی یوں لگتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی بیٹی کا سہاگ چھینتے ہوئے آج فرشتوں کو بھی دکھ ہورہا ہے۔پام و یو کی نچلی منزل کے وسیع کمرے کی تمام تیز روشنیاں بجھادی گئی تھیں اور پہلوؤں کے دیوار سے لگی ہوئی نائٹ لائٹس جل رہی تھیں۔جن سے کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔اور ایک نہایت ہی عزیز ترین مریض لوہے کے اونچے ، بیماروں والے پلنگ پر لیٹا ہوا نہایت تکلیف سے کھینچ کھینچ کر سانس لے رہا تھا۔میری امی جان ان کے سرہانے کی طرف ، چہرے کے بالکل قریب پلنگ کے ساتھ کرسی جوڑ کر ، نہایت ہی صبر اور عزم اور استقلال کے ساتھ سیدھی بیٹھی ہوئی بار بار پسینے پونچھ رہی تھیں۔کوئی آکسیجن دے رہا تھا۔کوئی جسم کا پسینہ کپڑوں سے آہستہ آہستہ خشک کر رہا تھا۔سب بچے اردگرد جمع تھے اور ہم بہن بھائیوں کو یہ خیال نہیں تھا کہ آپ کا آخری وقت اتنا قریب ہے۔صرف امی جان اس بات کو سمجھ رہی تھیں۔صبح کی اذانیں ہوئیں۔سب نے نمازیں پڑھیں یوں معلوم ہوتا تھا کہ وقت کو پر لگے ہوئے ہیں۔کہتے ہیں کہ تکلیف کا وقت جلدی نہیں گزرتا۔لیکن یہاں کچھ اور ہی معاملہ تھا۔وہی غنودگی کی کیفیت بدستور جاری۔مگر ہا ہوش تھے۔آنکھیں بند تھیں کھینچ کھینچ کر سانس آ رہی تھی۔ایک دم آپ بول پڑے ” نکل گئی نکل گئی۔ہم حیران تھے کیا ہوا۔طبیعت میں صفائی کا مادہ بہت تھا۔ہم سمجھے کہ شاید پلنگ پر ہی اجابت ہوگئی ہے۔لیکن دیکھا کہ حضرت مسیح موعود کی انگوٹھی جو امی جان نے ا ہاتھ میں پہنائی ہوئی تھی۔آخری وقت میں ہاتھ سکڑنے سے نکل کر بستر پر جا گری۔اسی کے متعلق کہہ رہے تھے وہ اسی وقت پھر پہنا دی گئی۔اس دوران میں آنکھیں بھی کھولتے تھے۔سب بچے اور عزیز اردگرد جمع تھے۔جن کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔میں بھی آپ کے پلنگ کے ساتھ لگ کر دائیں طرف کھڑی تھی۔میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ نظریں میری طرف اٹھیں۔ان آنکھوں میں رحم تھا ، محبت تھی پیار تھا اور یہ سوال تھا کہ تمہاری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں ؟ میں آج تک ان آنکھوں کو نہیں بھول سکی۔بھائی داؤ د احمد صاحب نے سورہ یس اور سورہ رحمن سنانی شروع کی تو کچھ دیر بعد وہ آنکھیں ہمیشہ کیلئے بند ہوگئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ میں اپنی امی کی حاضر دماغی پر آج تک حیران ہوں۔ابا جان کی وفات سے قریباً ایک گھنٹہ قبل مجھے امی جان نے سوسوروپے کے کئی نوٹ دیئے اور کہا کہ داؤ د احمد یا عباس احمد کو ضرورت ہو گی تو