اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 195 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 195

195 ابا جان لڑکی کو ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ساری عمر یہ دکھ میرے دل میں رہے گا۔تم لوگ ماں باپ سے تکلف کرتے ہو۔اگر ضرورت تھی تو نہ بھیجتیں۔غرض ابا جان کسی بچے کی تکلیف نہیں برداشت کر سکتے تھے۔ہمارے بچوں کے ساتھ ابا جان کو خاص لگاؤ تھا اور بچے ابا جان پر جان دیتے تھے جب پتہ لگتا کہ بچے آ رہے ہیں۔تو آپ ان کیلئے پہلے سے ہی ڈھیروں ڈھیر چیزیں منگوا کر رکھ لیتے اور بالعموم کار میں ان کو دکان پر لے جاتے اور گولیاں، ٹافیاں، چاکلیٹ اور مٹھائی وغیرہ خرید کر دیتے۔بچوں کو کھلانے کا شوق اتنا زیادہ تھا کہ بعض وقت بچے کی عمر چھوٹی ہوتی۔اس کا معدہ اس کو برداشت نہ کرتا۔کچھ نہ کچھ بیمار ہو جاتا۔ہم لوگ ابا جان کو تو کہہ نہیں سکتے تھے۔امی جان کو چپکے چپکے کہتے کہ یہ بیمار ہو جائے گا۔آپ ابا جان کو روکیں اور امی جان کے روکنے پر ابا جان کو حقیقی دکھ ہوتا کہ یہ ظلم بچے پر کیوں کرواتے ہیں کہ اس کو کھانے نہیں دیتے۔بچے تو ہوتے ہی کھانے کے ہیں۔وہ تو ابا جان کو گھیرے رکھتے تھے۔مگر ابا جان ان کو کھلانے سے کبھی تنگ نہیں آتے تھے۔اس سے مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔جوامی جان اور خالہ جان سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اکثر سنایا کرتی ہیں۔میرے بھائی عزیزم عباس احمد سال سوا سال کے ہوں گے کہ ان کو شدید پیچش ہو گئی۔بہت علاج ہوا۔آرام نہ ہوا۔آخر ڈاکٹر نے کہا ضرور کوئی چیز ایسی کھلا دی گئی ہے جو انتڑیوں میں پھنس گئی ہے۔ابا حضور کو خیال ہوا کہ ضرور کسی نوکر نے کچھ کھلا دیا ہے۔اس لئے حکم دیا کہ جو بھی اجابت بچے کو آئے وہ چھلنی میں چھان لی جائے۔تا کہ معلوم ہو کہ کیا کھایا ہے۔ایک دن سردے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے نکلے۔جب پوچھ کچھ ہوئی تو ابا جان نے کہا وہ تو ذرا سا میں نے کھلایا تھا۔آپ پیار کے ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت اور ان کو نصیحت بھی کرتے جاتے تھے۔اتنی محبت بیچے آپ سے کرتے تھے کہ ان کی وفات پر بچوں نے بالکل بڑوں کی طرح غم کیا۔میرا چھوٹا لڑکا تسلیم احمد اس وقت چار سال کا تھا۔اس وقت وہ آٹھ سال کا ہے۔ہم گزشتہ دنوں کراچی میں تھے۔اور ہر وقت کوٹھی کے سامنے سے کاریں گزرتی تھیں۔ایک دن میرے پاس آیا۔آواز بھرائی ہوئی تھی۔آنکھوں میں آنسو۔کہنے لگا امی جب مائیکرو اور سبز رنگ کی (massis) دیکھتا ہوں تو مجھے ابا جان بہت یاد آتے ہیں۔کیونکہ یہ دونوں کاریں مختلف وقتوں میں ابا جان کے پاس تھیں۔اپنے نوکروں اور ماتحتوں کے ساتھ آپ بہت حسن سلوک کرتے تھے۔اتنا زیادہ اعتماد کرتے