اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 194 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 194

194 ٹھہرے۔ابا جان ان کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ان کو ان دنوں میں ساتھ ہی سخت اعصابی تکلیف شروع ہوگئی اور معدے پر بھی بہت اثر تھا۔ابا جان کھانے کے بعد اپنی ایک معجون جو مقوی معدہ تھی روز آکر خود ان کو کھلاتے اور بہت خیال رکھتے۔ایک دن مجھے پوچھنے لگے۔طیبہ، مبارک تو خوش ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ ہماری طرف سے کوئی کوتا ہی تو نہیں ہو رہی۔مگر تم کیوں اداس ہو۔مجھے اس پر بہت حیرت ہوئی کیونکہ بظاہر میں بالکل ٹھیک تھی۔کسی نے محسوس نہیں کیا۔مگر میاں کی بیماری کی وجہ سے دراصل دل بہت پریشان تھا کہ پتہ نہیں کیا ہو گا۔کیونکہ علالت نے اس قدرطول پکڑ لیا ہے۔مگر ابا جان نے میرے دل کی کیفیت بھانپ لی۔عجیب تر امر یہ تھا کہ ہر بچہ سمجھتا تھا کہ آپ کو مجھ سے زیادہ محبت ہے۔1948ء والے دل کے حملہ کی بیماری کے شروع کے چھ ماہ تک یہ حال رہا۔کہ ڈاکٹر کہتے تھے کہ اگلے روز کے متعلق بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان کا کیا حال ہوگا۔سو ہم سب بہنیں اس عرصہ میں آپ کے پاس ہی رہیں۔سب کی ڈیوٹیاں مقرر تھیں۔ایک دن ابا جان امی جان کو کہنے لگے۔بیگم جب یہ لڑکیاں پیدا ہوئی تھیں تو ہم کو تھوڑ اسا ملال ضرور ہوتا تھا، مگر آج میں سوچ رہا ہوں کہ دو تین اور ہو جاتیں تو اچھا تھا۔تقسیم ملک کے بعد حالات سب کے خراب تھے۔بستر بھی ناکافی تھے۔ایک ایک رضائی میں دو دو تین تین مل کر سوتے تھے۔میری ایک بہن نے امی جان سے لحاف منگوایا کہ اگر کوئی فالتو ہو تو بھیج دیں ہمارے لحاف روئی بھر کر آجائیں گے تو بھجوا دیں گے (حالانکہ ابھی بھرنے نہیں گئے ہوئے تھے ) امی جان کے پاس بھی بستر نا کافی تھے۔انہوں نے دو کمبل بھجوا دئیے۔دو مہینے کے بعد اچانک رات کو کسی مہمان کی آمد سے ضرورت ہونے پر امی جان نے اس خیال سے کہ لحاف تیار ہو چکے ہوں گے۔کمبل منگوا لئے۔صبح کو ابا جان نے امی جان سے کہا میں تو رات نہیں سو سکا۔لڑکی کوکہیں ضرورت نہ ہو۔جب شام کو میری بہن آئی تو ابا جان نے فرمایا۔مجھے رات سخت تکلیف رہی تمہیں کمبلوں کی ضرورت ہوگی اور تم نے ہمارے منگوانے پر بھجوا دئیے۔اس نے غیرت کی وجہ سے بتایا نہیں۔اور یہی کہا کہ نہیں ہمیں تو اب ضرورت نہیں تھی۔مگر ابا جان نہ مانے۔انہوں نے فرمایا کہ نہیں ضرورت تب بھی تم ساتھ لے جاؤ۔آخر مجھے اتنی تکلیف کیوں ہوئی۔اور واقعہ یہ ہے کہ اس رات وہ لوگ جو بھی کوئی چادر پلنگ پوش اور کھیں تھے۔وہ لپیٹ کر لیٹے اور ساری رات سردی کی وجہ سے نہیں سو سکے۔کئی سال کے بعد جب حالات ٹھیک ہو گئے تو اس نے یہ واقعہ بتایا۔امی اور ابا جان کو بہت رنج ہوا۔