اصحاب احمد (جلد 12) — Page 184
184 نہایت اہم اور خصوصیت سے اہمیت رکھنے والے دینی اور دنیوی امور کے متعلق ایسی قوت فیصلہ رکھتے تھے کہ مجھے گمان گزرتا ہے کہ آپ دہری شخصیت کے مالک تھے۔لیکن آپ کی وفات کے کئی سال بعد آپ کے کردار پر گہرا غور و فکر کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق کے بغیر یہ بات پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔آپ مہمان نواز اتنے تھے کہ خواہ مہمان کی ہر طرح سے تسلی ہو جائے لیکن خود آپ کی تسلی نہیں ہوتی تھی۔آپ کو ہر وقت اس امر کا خیال رہتا کہ مہمان کو کوئی تکلیف نہ ہو۔مہمان کو اپنے سامنے کھانا کھلاتے اور اصرار سے ہر چیز اس کے سامنے خود پیش کرتے۔ایک دفعہ کراچی سے لاہور آتے ہوئے میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ ہر سٹیشن پر اتر کر ہر چیز کو حیرانی سے دیکھتا اس کی حرکات سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ یقیناً پہلی مرتبہ پنجاب وارد ہوا ہے۔چنانچہ دریافت کرنے پر میرا اندازہ درست نکلا۔یہ صاحب ڈھاکہ سے کراچی آئے تھے اور اب پنجاب کی کشش اس طرف کھینچ لائی تھی۔دوران سفر میں ہم ایک دوسرے سے بہت بے تکلف ہو گئے اور لاہور میں دوبارہ ان سے ملنے کا وعدہ بھی کر لیا۔لاہور آیا تو میں نے از راہ اخلاق ان کو پیشکش کی وہ جہاں اترنا چاہیں۔میں انہیں اپنی کا رمیں وہاں پہنچا آتا ہوں اور اس طرح ان کی قیام گاہ کا بھی مجھے علم ہو جائے گا۔انہوں نے ایک ہوٹل کا ذکر کیا۔وہاں ہم پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھوڑوں اور مویشیوں کی نمائش کے پیش نظر قبل از وقت بکنگ ہو چکی ہے اور کوئی جگہ نہیں جب لاہور کے تمام چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں یہی جواب ملا اور پھرتے پھراتے دو گھنٹے صرف ہو گئے اور وہ صاحب بہت پریشان نظر آنے لگے تو میں نے ان سے کہا کہ اب تو میرا غریب خانہ ہے۔اگر آپ ماڈل ٹاؤن چلنا چاہیں تو میں حاضر ہوں۔پہلے تو وہ کچھ ہچکچائے لیکن پھر مان گئے۔ان دنوں ہمارے ہاں بھی مہمان آئے ہوئے تھے۔اس لئے ہم دونوں ایک کمرے میں ٹھہرے صبح کو تیار ہوتے وقت اخلاقاً میں ان سے درخواست کرتا کہ پہلے وہ غسل خانہ استعمال کریں چنانچہ وہ تیار ہوتے اور پھر میرے تیار ہونے کے وقفہ میں وہ باہر والد صاحب کے پاس لان میں تشریف لے جاتے۔مجھے معلوم نہیں کہ اس وقفہ میں والد صاحب سے وہ کیا با تیں کرتے تھے۔کیونکہ میرے آنے کے بعد ہم دونوں فوراً شہر چلے جاتے۔لیکن ایک بات کو میں نے محسوس کیا کہ پہلے روز ہی والد صاحب سے ملاقات کے بعد ان صاحب کا تکلف اور غیریت بالکل غائب ہو چکی تھی۔کم و بیش ایک ہفتہ مہمان رہ کر وہ چلے گئے اور دوبارہ لاہور آنے پر ملاقات