اصحاب احمد (جلد 12) — Page 180
180 حضرت خلیفہ اول کسی وجہ سے مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے تاخیر سے آتے رہے تو میں نے دعا ئیں کیں۔کہ اے اللہ ! حضور سے بھی ہم محروم ہو گئے اور دوسری طرف مغرب کی نماز سنت کے مطابق وقت پر پڑھنے سے بھی محروم ہو گئے اور یہ میری اضطرابی دعائیں ہی اس امر کا موجب بنیں، کہ حضرت خلیفہ اول نے فرما دیا کہ میں وقت پر نہ پہنچوں تو نماز پڑھادی جایا کرے۔چنانچہ حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب بقیہ کھیت دیکھے بغیر واپس ہو گئے۔میں لا ابالی پن میں ہیر وارث شاہ پڑھتا تھا۔آپ نے مجھے فرمایا کہ کیا اچھا ہو کہ جتنی ہیر وارث شاہ آپ کو آتی ہے اتنا قرآن مجید بھی آجائے۔چنانچہ آپ نے توجہ دلا کے مجھے قرآن مجید با ترجمہ اور کچھ طب پڑھائی اور اس نیک اثر کے تحت ہیر کا پڑھنا چھوٹ گیا۔آپ نے مجھے نصیحت فرمائی تھی کہ روزانہ کوئی وقت نکالا کروں جس میں بغیر کسی مطلب کے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کروں۔آپ کے ان احسانات کی وجہ سے مجھے آپ سے بہت محبت تھی۔تقسیم ملک کے وقت میں رتن باغ لاہور پہنچا تو دیکھا کہ آپ بھی قادیان سے ہجرت کر کے پہنچے ہوئے ہیں قادیان کے متعلق یہ صورت حال محسوس کر کے میں بہت گھبرایا۔میری گھبراہٹ دیکھ کر مجھے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اینٹوں میں کیا ہے؟ میں آپ کی مالی خدمت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وساطت سے کرتا تھا۔آپ نے بھائی جی کی وفات کے بعد ازاہ کرم مجھے اس خدمت کا موقعہ عطا کیا کہ کچھ رقم جو بھائی جی کی طرف سے قابل ادا تھی میں ادا کروں۔حضرت بھائی جی فرماتے تھے کہ حضرت خلیفہ اول سے میں روزانہ پڑھنے جاتا ایک روز ایک کتاب کے متعلق فرمایا کہ اگر آپ یہ کتاب مجھ سے پڑھ لیں تو ہندوستان بھر میں آپ کے پایہ کا کوئی عالم نہ ہوگا۔لیکن میں نے یہ خیال کر کے نہ پڑھی کہ مبادا تکبر پیدا ہو جائے۔ایک دفعہ الیس ڈی او محکمہ نہر نے ہمارا موگہ بند کر دیا میں نے بیلدار کو سخت سست کہہ کر زبر دستی پانی کھول لیا۔حضرت بھائی جی کو اس واقعہ کا علم ہوا تو بہت متفکر ہوئے اور فرمایا کہ آپ نے افسر کو جس کے ہاتھ میں پانی ہے ناراض کر لیا ہے۔زمین میں فصل کس طرح ہوگی۔گویا سارے کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔یہ سخت غلطی کی ہے۔آپ عشاء سے قبل تھوڑی دیر کیلئے چار پائی پر لیٹ گئے۔اور پھر اٹھ کر مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔چوہدری ! اب کوئی فکر نہیں مجھے ابھی الہام ہوا ہے۔NO HARM ) کہ کوئی نقصان نہ پہنچے گا ) سو باوجود یکہ افسر کے حکم کو تو ڑ کر پانی کھول لیا گیا تھا۔