اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 179 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 179

179 کیونکہ تول ماپ میں کمی اور دھوکہ دہی کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ایک نبی مبعوث فرمایا تھا۔اگر کوئی کارکن ایسا کرے گا تو عنداللہ وہ خود اس کا ذمہ دار ہوگا۔ابتداء میں جب آپ نے سندھ میں اراضی حاصل کی تھی۔تو میرے بھائی محمد اکرم صاحب اور میں آپ کے ساتھ بنگلہ یوسف ڈاہری نزد محمود آباد فارم میں مقیم تھے ہندو ایس ڈی او وہاں آیا ہوا تھا۔اور اراضی کے تعلق میں نواب صاحب اس کے محتاج تھے۔لیکن نواب صاحب وقت پر ادا ئیگی نماز کے پابند تھے۔عین اس وقت جبکہ ضروری گفتگو ہورہی تھی۔ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا اور آپ کے ارشاد پر اذان دی گئی اور آپ اٹھ کر نماز کیلئے چلے آئے۔اسی طرح آپ تبلیغ کرنے کا گہرا جذ بہ بھی رکھتے تھے اور اس بارہ میں کسی سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔چنانچہ ایک ہندو اسٹنٹ انجینئر کو جو ولایت پلیٹ تھا میں نے تبلیغ کرتے اور اسلام کے متعلق کتب دیتے دیکھا ہے۔حالانکہ وہ الیس ڈی او تھا اور آپ دوسروں کی طرح اس کا احتیاج رکھتے تھے۔آپ اپنے اہل بیت کے مداح تھے۔فرماتے تھے کہ انہوں نے میری بہت خدمت کی۔خواہ کتنا روپیہ خرچ کر کے خادم اور نرسیں رکھ لی جائیں۔ویسی خدمت نہیں ہو سکتی۔اور یہ بھی بیان کرتے تھے کہ ماموں جان حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی آپ کی زوجیت میں ہیں۔آپ کا ہر کام نیکی ہے۔( مطلب یہ کہ دنیوی امور کی طرف آپ جو توجہ کرتے ہیں۔ان سے مقصود محترمہ صاحبزادی صاحبہ کی خدمت ہے ) آپ کے حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی جیسے بزرگوں سے گہرے مراسم تھے۔چنانچہ آپ حضرت بھائی جی کو 1933ء میں اپنے ساتھ اپنی اراضی پر لے آئے تھے۔بھائی جی آٹھ ماہ کے قریب وہاں ٹھہرے۔میں نے دیکھا کہ آپ نہایت با قاعدگی سے تہجد اور اشراق پڑھتے تھے۔اس عرصہ میں صرف ایک رات تہجد کا ناغہ ہوا۔فرماتے تھے کہ تہجد کا ناغہ ہو جائے تو اس روز میں اشراق کے وقت بارہ رکعت نفل پڑھتا ہوں۔ایک روز شام کو نواب صاحب فصل دیکھنے گئے۔مغرب کا وقت ہوا چاہتا تھا۔بھائی جی نے کہا کہ ہم واپس چلیں۔نواب صاحب نے کہا کہ ایک کھیت باقی رہ گیا ہے۔اسے دیکھ کر واپس چلتے ہیں۔بھائی جی نے کہا کہ میری فصل تو سوکھ گئی۔آنحضرت ملے ایسے وقت میں نماز مغرب ادا کرتے تھے کہ صحابہ کا بیان ہے کہ بعد نما ز اگر تیر چلایا جا تا تو اس کے گرنے کی جگہ نظر آتی اور یہ بھی سنایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد چند دن