اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 172 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 172

172 صاحب سے کہا کہ آپ نے پاس تو ہونا نہیں آپ کے امتحان میں شامل ہونے سے خواہ مخواہ فیل شدہ طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور ہمارے سکول کی بدنامی ہوگی۔بہتر ہے کہ آپ اس دفعہ امتحان میں شامل ہونے کیلئے اپنا نام ہی نہ بھیجیں۔مرحوم ایک نیک دل انسان تھے۔انہوں نے ہیڈ ماسٹر کی بات کو مان لیا۔دوسرے یا تیسرے دن مجھ سے کہنے لگے کہ آج رات سوتے میں مجھے آواز آئی۔مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمی۔اس لئے خیال آتا ہے کہ اگر امتحان میں شامل ہو جاؤں تو شاید پاس ہی ہو جاؤں۔آپ کی نیکی اور تقویٰ کو جانتے ہوئے مجھے یقین تھا کہ یہ اس نیک اور متقی نوجوان کو واضح الہام ہوا ہے میں نے حضرت مولوی محمد دین صاحب سے اس کا ذکر کیا۔تو وہ بھی مرحوم کا نام امتحان میں بھیجنے کیلئے رضامند ہو گئے اور مرحوم با وجود ایک کمزور طالب علم ہونے کے اور کئی ماہ بیمار رہنے کے اور تعلیم میں رغبت نہ رکھنے کے امتحان میں پاس ہو گئے۔اس الہام کی طلباء میں کئی دنوں بہت شہرت رہی۔ان کی سچی خوابوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں (ابھی چند دن ہوئے الفضل میں ان کی ایک رؤیا چھپی تھی جس میں انہیں اپنی عمر 66 سال بتلائی گئی تھی۔اور اسی کے مطابق وہ 66 سال کی عمر میں فوت ہوئے )۔میں اپنے نوجوان طالب علموں کے فائدہ کیلئے آپ کی زندگی کا ایک اور واقعہ بھی یہاں ذکر کر دیتا ہوں۔موصوف نویں جماعت میں پڑھتے تھے کہ وہ ہائی سکول کی فٹ بال کی ٹیم میں کھیلا کرتے تھے۔ان دنوں محکمہ تعلیم پنجاب کی طرف سے تمام سکولوں کی ٹیموں کیلئے خاص خاص وردیاں مقرر ہوئی تھیں۔جن کو کھیل کے میدان میں کھلاڑیوں کیلئے پہننا ضروری قرار دیا گیا تھا۔مرحوم کو بھی کھیل کے وقت وہ ور دی جو تعلیم الاسلام ہائی سکول کیلئے مقرر تھی پہنا ضروری تھی۔وہ ایک خاص وضع کی نکر اور سفید قمیص تھی۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب پردہ کے نہ صرف عورتوں کیلئے بلکہ مردوں کیلئے بھی شدت سے قائل اور خود اس کے پابند تھے ان کا خیال تھا کہ مردوں کی ٹانگوں کا پردہ ٹخنوں تک ہوتا ہے۔فٹ بال کی مجوزہ وردی میں ساری ٹانگ گوجرابوں اور نگر سے ڈھکی جاسکتی تھی لیکن گھٹنے ابھی ننگے رہتے تھے۔میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کو عمر کے تقاضا سے ٹیم میں کھیلنے کا بے حد شوق تھا۔لیکن حضرت نواب صاحب کا اصرار تھا کہ میں اس وقت تک کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔جب تک میاں محمد عبداللہ خاں صاحب گھٹنوں کو بھی نہ ڈھانکیں۔چنانچہ حضرت نواب صاحب کی خواہش اور