اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 171 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 171

171 گیا۔لیکن آسمان پر تو حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کیلئے خدا کے مسیح کی دامادی لکھی ہوئی تھی۔علی گڑھ کے رئیس کے ہاں ان کی شادی کیسے ہو سکتی تھی۔اس لئے بعض وجوہات کے سبب وہ معاملہ رک گیا۔1915ء میں جب آپ دسویں جماعت میں پڑھتے تھے تو ان کا حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سلمہا اللہ تعالیٰ کے ساتھ نکاح کا معاملہ زیر غور ہوا۔معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کو حضرت نواب محمد علی صاحب رضی اللہ عنہ کی کون سی نیکی پسند آئی کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے لخت جگر کو بھی دامادی مسیح پاک کی سعادت حاصل ہوئی۔میاں صاحب نے ان دنوں بار بار مجھ سے ذکر کیا۔کہ میرے لئے اس رشتہ میں صرف یہ کشش ہے کہ میرا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہو جائے۔ایک موقعہ پر اس رشتہ میں کچھ عارضی رکاوٹ پیدا ہوئی۔تو مرحوم و مغفور بہت بے قرار ہوئے اور بہت دعائیں کیں اور کروائیں اور آخر حضرت صاحبزادی صاحبہ کے ساتھ ان کا نکاح ہو گیا۔اس نکاح کا خطبہ پڑھنے کیلئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو خاص طور پر لا ہور سے بلوایا۔مجھے خوب یاد ہے کہ خطبہ نکاح میں حضرت مولوی صاحب موصوف نے حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام دخت کرام کی خوب تشریح فرمائی اور فرمایا کہ لفظ کرام لفظ کریم کی جمع ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام ہے کہ جَرِيُّ اللَّهِ فِى حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ اس نسبت سے اللہ تعالیٰ نے دخت کرام کے الفاظ آپ کیلئے استعمال فرمائے۔1914-15ء میں ہم دسویں جماعت میں پڑھتے تھے۔یہ خلافت ثانیہ کا پہلا سال تھا۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کو اس وقت سلسلہ کی ایک اہم انسٹی ٹیوشن خیال کیا جا تا تھا۔ہمارے مخالف یہ خیال کرتے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے کہ میاں صاحب سے ( یعنی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ) اور ان کے ساتھیوں سے ان کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے یہ ادارے کہاں کا میابی سے چل سکیں گے۔اس لئے طبعی طور پر خود حضرت خلیفتہ المسیح اور دوسرے احباب کو بھی یہ خیال تھا کہ کہیں دسویں جماعت کا نتیجہ خراب نہ نکلے خصوصاً جبکہ اس سے پہلے سال تعلیم الاسلام ہائی سکول کا میٹرک کا نتیجہ نہایت خراب نکل چکا تھا۔میاں محمد عبد اللہ خان صاحب مرحوم و مغفور جماعت میں ایک کمزور طالب علم تھے۔اس کے علاوہ دسویں جماعت میں وہ کئی ماہ بیمار بھی رہے۔اس خیال سے کہ جماعت کا نتیجہ اچھار ہے۔اس وقت کے ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی محمد دین صاحب ( موجودہ ناظر تعلیم ) نے میاں محمد عبد اللہ خان