اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 168 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 168

168 آف ریلیجنز حال مترجم قرآن مجید انگریزی ) مقیم لاہور کی قلم حقیقت رقم سے جو مرحوم کے جگری دوست تھے۔قارئین کرام کو حضرت مرحوم کے شمائل کا بہترین نقشہ معلوم ہو سکے گا۔یہ ان کی نصف صدی پر ممتد رفاقت کے تاثرات کا خلاصہ ہے۔محترم ملک صاحب فرماتے ہیں۔حضرت اماں جان کے لاڈلے اور دخت کرام سیدہ محترمه مخدومه صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ بنت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جاں نثار اور وفا شعار رفیق حیات اور اس عاجز غریب سے پورے پچاس سال تک محض خدا تعالیٰ کیلئے سگے بھائیوں کی سی محبت کرنے والے حضرت میاں محمد عبداللہ خان صاحب ابن حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ 18 ستمبر 1961ء بروز دوشنبہ اپنی ایک خواب کے مطابق ( جو وفات سے چند دن قبل الفضل میں چھپ چکی تھی ) اپنی عمر کی 66 منزلیں طے کر کے اپنے خالق و مالک کے حضور حاضر ہو گئے۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ میں نے اپنے اس مضمون کو حضرت مرحوم و مغفور کے ساتھ حضرت اماں جان نوراللہ مرقدہا کے خاص لاڈ کے ذکر سے شروع کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت اماں جان کو مرحوم سے بے حد محبت تھی۔مرحوم مجھ سے ذکر کیا کرتے ہیں کہ جب ان کی نئی نئی شادی ہوئی تو حضرت اماں جان نے انہیں فرمایا کہ میاں عبداللہ خاں جب مبارکہ ( یعنی مخدومہه ومحترمه حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ ) کی شادی میاں ( یعنی حضرت نواب محمد علی خان صاحب) سے ہوئی تو اس وقت چونکہ نواب صاحب کی عمر بڑی تھی۔اس لئے اپنے داماد کے ساتھ محبت کرنے کا جو شوق ہوتا ہے۔میں اسے پورا نہ کر سکی۔اس لئے میں تم سے دہری محبت کر کے اس کمی کو بھی پورا کروں گی۔حضرت میاں عبداللہ خان صاحب مجھ سے فرمایا کرتے تھے کہ پھر حضرت اماں جان نے میرے ساتھ محبت کرنے میں حد کر دی اور جب میں نے متاہل زندگی کی ذمہ داریوں کو سنبھالا۔اس وقت اتفاق سے والد محترم ( یعنی حضرت نواب محمد علی خان صاحب قبلہ کی مالی حالت کمزور تھی اور مالی لحاظ سے میں تو قریباً تہی دست تھا۔حضرت اماں جان نے ہر طرح سے میری غیر معمولی مدد فرمائی۔یہاں تک کہ مالی مدد اور دعاؤں کی برکت سے لاکھوں کی جائیداد کا مالک اور کئی ہزار روپیہ میری ماہوار آمدنی ہوگئی میرے یہ سب برگ و بار حضرت اماں جان کی محبت اور دعاؤں کی برکت سے ہیں۔یہاں یہ بات بھی شاید قابل ذکر ہو کہ ہجرت کے موقع پر جب میں قادیان سے وسط نومبر 1947ء میں لاہور پہنچا۔تو اس وقت میرے پاس اپنے سارے خاندان کے افراد کیلئے جو اس وقت