اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 133 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 133

133 آپ دینی کاموں میں خوب حصہ لیتے۔چندہ بہت بڑھ چڑھ کر دیتے اور یقین رکھتے کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کشائش عطا فرماتا ہے۔پاکستان میں آجانے کے بعد آپ ایک بڑا لمبا عرصہ بیمار رہے۔لیکن اس میں بڑے صبر اور رضا برضائے الہی کا نمونہ دکھایا۔اس طویل بیماری میں حضرت بیگم صاحبہ نے آپ کی جو بے حد خدمت کی۔اس کا آپ کی طبیعت پر بہت ہی گہرا اثر تھا۔اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمتیں ہوں اس پر اورس کے اہل وعیال پر۔آمین 16۔بیان مختار عام آپ کی اراضی سندھ کے مختار عام منشی عزیز احمد صاحب ساکن موضع پھیر و هیچی نزد قادیان کا بیان وقیع ہے کہ حضرت مرحوم کے خلوت و جلوت اور سفر و حضر میں آپ کے حالات انہیں مدت مدید تک بنظر غائر جائزہ لینے کا موقع ملا۔منشی صاحب کا اس خاندان سے 21-1920ء سے تعلق ہے۔آپ بیان کرتے ہیں :۔حضرت میاں صاحب کی شکل جوانی میں بھی مومنانہ تھی۔پابند شریعت، منکسر المزاج، مسکراتے ہوئے بات کرنے والے، صاف بات کہنے میں نڈر، صاف گو، سادگی کا یہ عالم کہ اگر کوئی پیچیدہ بات کرے تو اس کی پیچیدگی کو سمجھ ہی نہ سکتے تھے۔دو تین بجے بیدار ہو جاتے اور تہجد نہایت خشوع سے ادا کرتے۔بعد فراغت اذان تک کیلئے استراحت فرماتے۔نماز فجر با جماعت ادا کر کے پھر کچھ عرصہ آرام فرماتے اور پھر ناشتہ سے پہلے یا بعد بالالتزام تلاوت فرماتے۔ایک دفعہ آپ مسجد نور میں معتکف بھی ہوئے ایک اور معتکف حضرت سید مہدی حسین صاحب کو بھی کھانا مہیا فرماتے۔آپ کا لباس سادہ ہوتا تھا۔شلوار قمیص اور شیروانی اور مشہدی لنگی اور سفر میں اکثر برجس اور افسران سے ملاقات کے وقت بہترین بر جس زیب تن فرماتے جس سے آپ کا رعب اور وجاہت دوبالا ہوتی۔ایک دفعہ آپ مع اہل بیت صبح سیر سے واپس لوٹے تو ایک معمر شخص نے جس کے کپڑے میلے کچیلے تھے عند الملاقات حضرت بیگم صاحبہ کا بھی خیال نہ کیا کہ پاس ہیں آپ کا ہاتھ پکڑے رکھا اور اصرار کیا کہ وہ معانقہ کریں گے۔چنانچہ اس خاطر کہ ان کی دل شکنی نہ ہو۔آپ نے ان کی بات مان لی۔آپ دل شکنی کا خیال کر کے ہر ملاقاتی کو فوراً ملاقات کا وقت دیتے۔آپ کی شدید علالت میں نصرت آباد میں ایک صاحب نے ملاقات پر اصرار کیا۔آپ نے فرمایا کہ میں اس وقت نہیں مل سکتا۔