اصحاب احمد (جلد 12) — Page 110
110 صاحب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے جن کو خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شرف مصاہرہ حاصل تھا۔گویا صہر ونسب کے لحاظ سے آپ بہت اونچا مقام رکھتے تھے۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ مرحوم کو جو مخلصانہ تعلق تھاوہ اس حقیقت سے عیاں ہے کہ آزدی ملک کے معاً بعد جب دوسرے اہل اسلام کے ساتھ جماعت احمد یہ بھی مشکلات سے دو چار تھی۔مرحوم نے صدر انجمن احمدیہ کے کام کی پوری ذمہ داری کو ناظر اعلیٰ کی حیثیت میں سنبھالا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جبکہ صد را انجمن احمد یہ مالی لحاظ سے بھی سخت مشکلات میں تھی اسے آدمیوں کی بھی ضرورت تھی جماعتی یجہتی اور تنظیم کو قائم رکھنے کیلئے خلافت حقہ احمدیہ کی اطاعت میں اس کی معاونت کی اشد ضرورت تھی۔مرحوم نے اس ذمہ داری کو اپنی صحت کے آخری ایام تک جفاکشی کے ساتھ ادا کیا۔صدر انجمن احمد یہ اس صدمہ عظیم میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خاندان حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کے جملہ افراد کے ساتھ دلی طور پر ہمدردی رکھتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت نواب صاحب مرحوم کو اعلی علیین میں اپنے خاص قرب کا مقام عطا فرمادے اور پسماندگان کا حامی و ناصر ہو۔آمین (الفضل 23 ستمبر 1961ء)0 عبارت کتبہ عبارت کتبہ مرقومہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب درج ذیل کی جاتی ہے۔سہوا اس میں 1896ء کی بجائے 1895 ء تاریخ ولادت درج ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرَيْم مزار نواب زادہ میاں عبداللہ خاں صاحب تاریخ پیدائش یکم جنوری 1895ء ا خوبیم نواب زادہ میاں عبد اللہ خان صاحب حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے فرزند ہونے کی وجہ سے صحابی ابن صحابی تھے۔اور انہیں یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ اپنے والد ماجد کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دامادی کی فضیلت بھی ملی۔نہایت نیک، شریف ، منکسر المزاج اور ہمدرد قریباً پون صد جماعتوں کی طرف سے قرار داد ہائے تعزیت الفضل 21 ستمبر تا یکم نومبر 1961ء میں شائع ہوئیں۔نیز ایک تعزیتی نوٹ انگریزی پندہ روزہ اخبار دی ٹروتھ نا یجیریا ( مغربی افریقہ ) بابت 22 ستمبر 1961ء میں شائع ہوا۔