اصحاب احمد (جلد 12) — Page 106
106 خاندان حضرت نواب محمد علی صاحب رضی اللہ عنہ کے افراد ، صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت ہائے احمدیہ کے امراء صاحبان نیز ناظر و وکلاء صاحبان نے اٹھایا۔بعد ازاں جب جنازہ کوٹھی کے باہر سڑک پر پہنچا۔تو احباب نے جو سڑک کے دونوں طرف دور تک کھڑے تھے جنازے کو کندھا دیا۔اور اس طرح ہزار ہا احباب کے کندھوں پر جنازہ مقبرہ بہشتی کے احاطہ میں پہنچا۔جہاں کھلے میدان میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ہزار ہا افراد نے اکیس صفوں میں ترتیب وار کھڑے ہو کر نما ز جنازہ میں شرکت کی۔تدفین :۔بعد ازاں ساڑھے آٹھ بجے کے قریب جنازہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے مزار اقدس والی چار دیواری کے اندر لے جایا گیا۔جہاں تابوت کو قبر میں اتارنے میں خاندان حضرت مسیح موعود ، صحابہ مسیح موعود اور امراء صاحبان جماعت ہائے احمدیہ نے حصہ لیا۔سوا نو بجے کے قریب قبر تیار ہونے پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے دعا کرائی۔اس طرح ہزارہا افسردہ و غمگین دلوں اور نمناک آنکھوں کے ساتھ حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب مرحوم رضی اللہ تعالی عنہ ( جو اپنے دینی ذوق و شوق والہانہ محبت و عقیدت اور قابل قدر خدمات سلسلہ کی وجہ سے جماعت میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔) کی نعش سپر د خاک کر دی گئی۔حضرت نواب صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کی قبر حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار کے بالمقابل چار دیواری کے جنوب مشرقی حصہ میں واقعہ ہے۔کل حضرت نواب صاحب مرحوم کی وفات پر صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر نیز ربوہ کے جملہ تعلیمی ادارے احتراماً بندر ہے۔اور جملہ کا رکنان اور ادارہ جات کے ممبران سٹاف اور طلباء نے نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔(الفضل 21 ستمبر 1961ء) حالات مرض الموت مع ذکر مناقب 66 آپ کے صاحبزادہ میاں عباس احمد خاں صاحب تعزیت کنندگان کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے آپ کی آخری علالت کے حالات اور آپ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :۔والد محترم رضی اللہ عنہ کو فروری 1949ء میں دل کا شدید حملہ ہوا تھا۔اور تمام بڑے ڈاکٹروں کی متفقہ رائے تھی کہ اس حملہ کے بعد کسی لمبے عرصہ کیلئے زندہ رہنا ناممکن ہے زیادہ سے زیادہ یہ خیال