اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 105 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 105

105 صاحب مرحوم کے بڑے داماد محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشير تحریک جدید ( جو آج کل یورپ اور امریکہ کے احمد یہ مشنوں کے دورے کے سلسلہ میں باہر تشریف لے گئے ہوئے ہیں ) کی کوٹھی واقعہ محلہ دارالصدر غربی لے جایا گیا۔اگلے روز یعنی مورخہ 19 ستمبر کو صبح 8 بجے جنازہ کوٹھی سے اٹھایا گیا۔اور مقبرہ بہشتی کے احاطہ میں ساڑھے آٹھ بجے صبح نماز جنازہ ادا (الفضل 20 ستمبر 1961ء)0 حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کی نعش کو مقبرہ بہشتی میں سپردخاک کر دیا گیا۔اور تدفین خاندان حضرت مسیح موعود کے افراد، حضور کے صحابہ اور امرائے ضلع کے ہاتھوں عمل میں آئی کے عنوانات کے تحت الفضل میں مندرج ہے۔کی گئی۔وو ربوہ 20 ستمبر حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسد خا کی کو، کل مورخہ 19 فروری 1961ء صبح نو بجے نماز جنازہ کے بعد مقبرہ بہشتی میں حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار اقدس کی چار دیواری کے اندر سپردخاک کر دیا گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ جنازہ صبح آٹھ بجے محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلی و وکیل التبشیر تحریک جدید کی کوٹھی واقعہ محلہ دارالصدر غربی سے اٹھایا گیا تھا۔جنازہ اٹھانے سے قبل ربوہ کے ہزار ہا مقامی احباب کے علاوہ ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ ، سانگلہ، شیخوپورہ، لائل پور، جڑانوالہ، سرگودھا، جھنگ ، چنیوٹ اور دور ونزدیک کے دیگر مقامات سے آئے ہوئے جماعت ہائے احمد یہ کے امراء صاحبان و دیگر کثیر التعداد احباب نے آخری بار حضرت نواب صاحب مرحوم کا چہرہ دیکھا۔احباب قطار وار جنازہ کے پاس چہرہ دیکھتے ہوئے گزرتے جاتے تھے۔چہرہ دیکھنے کا سلسلہ قریباً پون گھنٹے تک جاری رہا۔نماز جنازہ :۔چونکہ احباب جنازہ میں شرکت کی غرض سے ہزارہا کی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔اس لئے جنازہ کی چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کی زیر ہدایت کوٹھی کے اندرونی حصہ سے جنازہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور الفضل 21 ستمبر 1961ء میں حالات زندگی درج ہیں جن کے متعلق وہاں مرقوم ہے کہ ” اصحاب احمد جلد دوم سے اخذ کردہ ہیں۔بدر 21 ستمبر 1961ء اور 28 ستمبر 1961ء میں بھی خبر وفات و حالات تدفین وزندگی درج ہیں۔وفات کی پہلی اطلاع الفضل 20 ستمبر 1961ء میں اور تعزیتی نوٹ 21 ستمبر 1961ء صفحہ 2 میں درج ہوئے ہیں۔عدم تکرار کی خاطر ترک کر دیئے ہیں۔