اصحاب احمد (جلد 12) — Page 81
81 تمہارے بچپن سے جوانی تک کے واقعات پھر جاتے ہیں۔تم میرے گلستان امید کی بہترین کلی تھیں۔ایک وقت تھا کہ سرخ سفید بھولا بھالا گوشت کا لوتھڑا مجھے اس قدر پیارا اور عزیز تھا۔کہ دنیا کی ہر ایک چیز اس کے مقابلہ میں بیچ نظر آتی تھی۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے اور بھی تمہارے بہن بھائی دیئے۔لیکن ان کے آنے سے تمہاری محبت میں کمی نہیں آئی۔میں نے تمہیں لڑکوں سے کبھی کم نہیں سمجھا۔میں نے اللہ تعالیٰ کی عنایت اور مہربانی سے تمہاری تعلیم وتربیت میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی اور حتی الامکان تمہاری ضروریات کو اپنے آرام و آسائش پر مقدم رکھا۔اس کی یہ وجہ نہیں کہ تم میری اولا د تھیں بلکہ میں نے تم سب بھائی بہنوں کو اللہ تعالیٰ کا ایک خاص انعام تصور کیا۔تمہاری والدہ سے شادی کرنے سے میری سب سے بڑی خواہش اور آرزو یہی تھی کہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا روحانی و جسمانی جزو بن جاؤں میری خواہش کی تکمیل نہیں ہو سکتی تھی جب تک کہ دنیا میں تم لوگ نہ آتے۔اس خواہش کا سب سے پہلا ثمرہ تم ہی ہو۔اس لئے جو محبت مجھے تم سے پیدا ہوئی میں اس کو آج تک اسی طرح محسوس کرتا ہوں۔ایسی حالت میں تم خود اندازہ کر سکتی ہو۔کہ کسی کے تم کو حوالہ کر دینا میرے لئے کس قدر تکلیف اور صدمہ کا موجب ہوسکتا ہے لیکن قانون قدرت اور اللہ و رسول کی اتباع میں تم کو اپنے سے جدا کرنے پر مجبور ہوں۔اور ایک شریف ترین شخص کے تم کو سپرد کرتا بقیہ حاشیہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کو صحت و عمر دے وہ اس کام کیلئے زیادہ موزوں ہیں۔پھر جماعت پر بھی ان کا کافی اثر ہے۔میں تو بیماری کی وجہ سے کسی قابل نہیں رہا ہوں۔میں نے حضرت بیگم صاحبہ ( یعنی صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ ) اور بچوں کا وعدہ چندہ بھی بذریعہ جماعت ماڈل ٹاؤن بھجوایا ہے۔مسجد فرینکفورٹ کا ایک صد روپیہ بھی ادا کر دیا ہے۔ابھی پچاس روپیہ میرے ذمہ باقی ہیں۔( آپ نے جرمنی کی ہر دو مساجد کیلئے ڈیڑھ ڈیڑھ سوروپیدا دا فرما دیا ہے۔ناقل ) آج کل کئی قسم کی مشکلات اور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہوں۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان سب مشکلات سے نجات دے۔تو پھر انشاء اللہ مزید ثواب میں شامل ہونے کی کوشش کروں گا۔وہ اس قدر رقم ہوگی کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔پس دعا کریں نیت میں فرق نہیں۔توفیق مل جائے سہی پھر مزید خدمت کیلئے حاضر ہوں پس دعا کریں اور بہت کریں اور کروائیں۔جزاک اللہ۔الحمد للہ کہ میری تحریک کامیاب رہی۔اللہ تعالیٰ نے مجھے ثواب کا موقعہ دیا۔پس حضرت نواب صاحب کی بلندی درجات کیلئے دعا کرتے ہوئے نو جوانوں کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ وہ اپنے محبوب امام کی توقعات کے مطابق اپنے رخصت ہونے والے بزرگوں کے خلاء کو پر کرنے کی پوری پوری کوشش کریں۔۔۔(الفضل 6اکتوبر 1961ء)