اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 37 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 37

37 کالج میں داخلہ خالد صاحب لکھتے ہیں کہ مرحوم کا خیال تھا کہ وہ میٹرک کے امتحان میں اس سال کامیاب نہ ہوسکیں گے۔لیکن ان کو الہام ہوا۔مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمی وہ تو کامیاب ہو گئے لیکن میں نہ ہو سکا۔اور وہ گورنمنٹ کالج میں داخل ہو گئے۔0 کالج کے زمانہ میں بھی بابا غلام فرید اور میاں عبداللہ خاں کو اکٹھا ہی دیکھا جاتا۔میاں عبد اللہ کا حلقہ احباب بہت وسیع ہوتا گیا۔اور وہ سب مشرع اور مذہبی لوگ تھے۔سب داڑھی رکھتے تھے۔اور عند الملاقات سب دینی امور پر گفتگو کرتے تھے۔ان دنوں مسائل خلافت اور کفر زیر بحث تھے۔ان پر ان بچوں کے غیر پختہ مباحث چلتے تھے اور حضرت مسیح موعود" کی کتب کے حوالے دیئے جاتے تھے۔لاہور میں احمد یہ ہوسٹل کے بانی مبانی بھی عبداللہ خاں اور بابا غلام فرید تھے چنانچہ ان دونوں کے زہد و تقویٰ کے باعث طلباء ہوسٹل بھی ان کا بہت لحاظ کرتے تھے۔سپر نٹنڈنٹ ہوسٹل بھی کٹھ پتلی کی طرح ان کے اشاروں پر ہی چلتا تھا۔ایک شب میں انارکلی کی سیر کر کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ذرا دیر سے واپس آیا۔ہوٹل پہنچ کر ہم تھوڑی دیر اور باتیں کرتے رہے۔گرمیوں کا موسم، مچھروں کی کثرت، نیند نہیں آرہی تھی۔میاں عبداللہ خاں نے ہمیں سخت ڈانٹا کہ ہمیں سونے نہیں دیتے۔سب طلباء ان سے خوف کھاتے تھے۔اور ان کا ادب بھی کرتے تھے۔ہم سب کان لپیٹ کر اپنی اپنی چارپائیوں پر دبک گئے۔غیر احمدی رشتہ کا انفساخ حضرت نواب صاحب کی قلمی تمنا تھی کہ ان کے بچوں کے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں۔اور حضرت خلیفۃ امسیح اول رضی اللہ عنہ اس رائے میں ان سے متفق تھے۔چنانچہ میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان فرماتے ہیں۔والد صاحب کی خواہش تھی کہ ہم بھائیوں کے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں تا ہم احمدیت میں راسخ ہو جائیں۔اور دنیوی تعلقات میں پھنس کر احمدیت سے بیگانہ نہ ہوجائیں۔لیکن اس وقت کامیاب ہونے والے طلباء کے اسماء الفضل یکم جون 1915 ء ص 5 پر درج ہیں۔